ممبئی/ ایک طرف جہاں ریاست میں خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں دوسری طرف ریاست میں لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ صرف مارچ کے مہینے میں ریاست سے 2200 لڑکیاں لاپتہ ہو چکی ہیں۔ یہ تعداد فروری کے مقابلے 307 زیادہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لاپتہ ہونے والی لڑکیوں میں 18 سے 25 سال کی لڑکیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، اس عمر کی 70 لڑکیاں روزانہ لاپتہ ہوتی ہیں۔ جس کی وجہ سے والدین کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔
اس سال جنوری میں 1600 لڑکیاں لاپتہ ہوئیں جب کہ فروری میں یہ تعداد 1810 تھی۔ بہت سی نوجوان خواتین کو جسم فروشی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ گھر چھوڑنے والی لڑکیوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر ہم مارچ 2022 کے مہینے کے اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو پولیس ریکارڈ میں 1695 لڑکیوں کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ تو ان لڑکیوں کا کیا ہوا؟ یہ ایک سوال ہے ، لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کی بہت ساری رپورٹس کے باوجود پولیس انتظامیہ لڑکیوں کا سراغ کیوں نہیں لگا سکی یہ یقیناً ایک تحقیق کا موضوع ہے۔
مارچ میں لاپتہ لڑکیوں کی سب سے زیادہ تعداد تقریباً 2200 ہے۔اگر ہم لاپتہ لڑکیوں کے ضلع وار اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو سب سے زیادہ تعداد پونے ضلع میں ہے۔ وہاں 228 لڑکیاں لاپتہ ہو چکی ہیں۔ ان میں ناسک میں 161، کولہاپور میں 114، تھانے میں 133، احمد نگر میں 101، جلگاؤں میں 81، سانگلی میں 82 اور یاوتمال میں 74 لڑکیاں لاپتہ ہوئی ہیں۔
نابالغ لڑکیوں کو ورغلا کر اغوا کرنے، شادی کا لالچ دے کر اغوا کرنے، برے راستے پر ڈالنے اور نوکریوں کا لالچ دے کر ان کا استحصال کرنے کے واقعات کی وجہ سے خواتین اور نوجوان خواتین کے تحفظ کا مسئلہ سنگین ہو گیا ہے۔

.jpeg)

