مشہور خبریں

اشتعال انگیز نعرے لگانے والوں کے خلاف سخت مقدمہ درج ،سماجوادی پارٹی کے وفد کی شہر اے ایس پی سورج گنجال سے ملاقات، متنازع زمین کے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی سخت مذمت ،اردو ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، ثقافت اور تحریکِ آزادی کی اہم زبان ہے اسے کسی مذہب یا ملک سے جوڑنا گنگا جمنی تہذیب کی توہین ہے : مستقیم ڈگنیٹی

مالیگاؤں : سماجوادی پارٹی کے گٹ نیتا مستقیم ڈگنیٹی کی قیادت میں ایک وفد نے شہر کے اے ایس پی سے ملاقات کرکے حالیہ احتجاج کے دوران لگائے گئے اشتعال انگیز نعروں، نفرت انگیز بیانات اور عوامی جذبات کو مجروح کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وفد میں حاجی اطہر حسین اشرفی یوتھ ونگ کے صدر راحیل حنیف، نائب صدر فیضان رجو، وسیم شیخ، طارق مچھلی والے، ابواللیث انصاری، عارف عطار، اعجاز پاپے، حسین خان، معین اشرف، سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ متنازع زمین کے معاملے کو دانستہ طور پر فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زمین کے ریزرویشن سے متعلق تمام کارروائیاں سرکاری سطح پر قانونی طریقۂ کار کے مطابق انجام دی گئی ہیں۔ اس پورے معاملے میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا ناانصافی ہے۔ اگر کسی مرحلے پر بے ضابطگی ہوئی ہے تو حکومت غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اور ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔

انہوں نے مالیگاؤں کے عوام، خصوصاً مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ جب تک معاملہ مکمل طور پر واضح نہ ہو، متنازع زمینوں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں، کیونکہ کسی بھی آئندہ قانونی تبدیلی کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان عام اور غریب لوگوں کو اٹھانا پڑے گا۔
مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ گزشتہ روز کے احتجاج میں بعض افراد نے قانون اور آئین کی حدود کو پامال کرتے ہوئے اشتعال انگیز نعرے لگائے، گالم گلوچ کی اور ایسی زبان استعمال کی جس سے شہریوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص امن و امان خراب کرنے کی جرأت نہ کرے۔
انہوں نے بتایا کہ شہر اےایس پی کو پیش کیے گئے مکتوب میں انہی نکات کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ پولیس حکام نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے میں مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے، جس پر وفد نے اطمینان کا اظہار کیا۔
مستقیم ڈگنیٹی نے اردو زبان کے حوالے سے کیے گئے اعتراضات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اردو ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، ثقافت اور تحریکِ آزادی کی اہم زبان ہے۔ اسے کسی ایک مذہب یا ملک سے جوڑنا نہ صرف تاریخی حقائق سے انکار ہے بلکہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی بھی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی ہر اس کوشش کی مخالفت کرتی رہے گی جو شہر کے امن، بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی غرض سے کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا اعتراض کسی قانونی یا انتظامی عمل پر نہیں بلکہ احتجاج کے دوران اختیار کیے گئے اشتعال انگیز طرزِ عمل، نفرت انگیز نعروں اور عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی زبان پر ہے، جس کے خلاف سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.