مالیگاؤں : 29 مئی / مالیگاؤں کے زمینی تاریخی قلعوں کو مہاراشٹر حکومت کی ہدایت پر 31 مئی تک خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور اسی ضمن میں ضلع کلکٹر کی نگرانی میں کارپوریشن کمشنر ،اے ایس پی اور تحصیلدار کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے مطابق اس کمیٹی نے تحصیلدار کے ذریعے دو نوٹس تقسیم کرتے ہوئے بستی کے اتی کرمن کو خالی کرنے کا الٹی میٹم دیا ۔اس معاملے میں مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی کی جانب سے قلعہ بچاؤ کمیٹی کے 133 مکینوں نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور انہیں 17 جون تک راحت ملی ہے ۔
27 مئی کو آخری نوٹس تحصیلدار کی جانب سے بستی والوں کو دی گئی۔اس نوٹس کے مطابق اب اسٹے آرڈر حاصل کرنے والے 133 مکینوں کو چھوڑ کر بقیہ 235 مکانات کو خالی کرنے کیلئے تحصیلدار محکمہ اور کارپوریشن کے ملازمین و آفیسران نے مالیگاؤں کے زمینی قلعہ میں پہنچ کر بستی کے اتی کرمن نکالنے کیلئے لینڈ مارکنگ شروع کردیا ہے ۔گھروں پر ریڈ مارکر سے کراس کا نشان لگایا جارہا ہے ۔اس ضمن میں حاصل تفصیلات کے مطابق دی گئی نوٹس کے مطابق 31 بروز سنیچر کو قلعہ بستی کا اتی کرمن نکالا جائے گا ۔اس کیلئے تیاریاں تقریباً مکمل ہوگئی ہے ۔اس موقع پر مالیگاؤں پولس انتظامیہ سے بھی پولس سیکورٹی مذکورہ ضلع کلکٹر کی کمیٹی نے حاصل کرلیا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی سنیچر کو قلعہ بستی خالی کردی جائے گی؟ اس پر عوام کی نظریں لگی ہوئی ہیں ۔خیال رہے کہ مالیگاؤں سمیت مہاراشٹر کے قلعوں پر آباد آتی کرمن کو نکالنے کیلئے حکومت نے ایک حکمنامہ جاری کیا تھا جس کی روشنی میں مذکورہ کارروائی جاری ہے ۔اب بقیہ 235 مکانات کے مالکان اگر سنیچر سے قبل ممبئی ہائی کورٹ کا حکم امتناع حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو انکے مکانات کو بھی خالی نہیں کیا جائے گا اور انہیں بھی راحت مل سکتی ہیں ۔
