چھترپتی سنبھاجی نگر (اورنگ آباد) : شہر کے قریب ستارہ علاقے میں ضلع پریشد اسکول کے سامنے ایک غیر قانونی اسقاط حمل کا ریکیٹ چلائے جانے کا چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اس کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے دو بہنوں سمیت ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے ۔ دریں اثنا، نرس جو اس ریکیٹ کا مرکزی ماسٹر مائنڈ ہے، مفرور ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔
انتظامیہ کو ملی خفیہ اطلاع کے مطابق اطلاع ملی تھی کہ ستارا گاؤں میں ضلع پریشد اسکول کے سامنے والے علاقے میں غیر قانونی اسقاط حمل کیا جارہا ہے ، اس خبر کے ملتے ہی پولیس نے جال بچھایا اور ٹیم نے 23 سالہ شادی شدہ خاتون پر اس وقت چھاپہ مارا جب اس کا شوہر اور بہنوئی اسے اسقاط حمل کے لیے لائے تھے جنہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔
تحقیقات کے دوران اس ریکیٹ کے بارے میں چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے۔ جیوتی بھیم راؤ پوار اس پوری معاملے کی ماسٹر مائنڈ ہے اور یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ ایک جی این ایم نرس ہے ۔ صرف 15000 روپے میں پورٹیبل ڈیوائس کے ذریعے جنین کی جنس کی جانچ کی جارہی تھی۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ جنین لڑکی ہونے کی صورت میں گولیوں کا استعمال کرکے اسقاط حمل کیا جا رہا تھا۔ بعض صورتوں میں شبہ ہے کہ خواتین کو دوسری جگہوں پر بھیج کر بڑی رقم بھتہ لی جاتی ہے۔
چھاپے کی اطلاع ملتے ہی مرکزی ملزم جیوتی پوار موقع سے فرار ہوگئی ۔ پولیس اس کی تلاش کر رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کی گرفتاری کے بعد اس ریکیٹ کے پیچھے وسیع نیٹ ورک کا پردہ فاش ہو جائے گا۔
اس معاملے میں ملزم کے خلاف ستارہ پولیس اسٹیشن میں پی سی پی این ڈی ٹی ایکٹ اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اسکول جیسی جگہ کے سامنے اس طرح کی غیر قانونی حرکتیں ہونے پر شہریوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے ۔پولیس نے بتایا کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جارہی ہے ۔
