مالیگاؤں : مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن انتخابات میں صرف چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں ۔ایسے میں پورے ملک کی نظر مالیگاؤں جیسے تاریخی و تحریکی شہر پر ٹکی ہوئی ہے ۔گزشتہ سال بھر سے فرقہ پرستوں کی آنکھ میں چھبھنے والے مسجدوں و بنکروں کے اس شہر مالیگاؤں میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور فرقہ پرست جماعت کی جانب سے مسلسل مصیبتیں لائی جارہی ہے ۔کبھی جنم داخلہ معاملہ میں مسلمانوں کو حراساں کیا گیا، جیل میں قید کیا گیا، تو کبھی زمین کے غیر قانونی کاروبار کے الزام میں کروڑوں روپے کا نقصان مالیگاؤں کی عوام کو برداشت کرنے پر مجبور کیا گیا، مسلمانوں کے مذہبی و جمہوری حقوق پر حملے کئے گئے اور اب مالیگاؤں شہر میں بھگوا میئر بنا کر ایس آئی آر کے سروے کی دھمکی، قلعہ بستی کو اکھاڑنے کی کھلے عام دھمکی، لینڈ جہاد کے نام پر بستیوں پر بلڈوزر چلانے کی کھلے عام دھمکی دینا بی جے پی کی سازش کو بے نقاب کرتا ہے ۔اسی طرح دیگر فرقہ پرستی کے منصوبہ پر بی جے پی عمل کررہی ہے ایسے حالات میں مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کا چناؤ انتہائی اہم تسلیم کیا جارہا ہے ۔بی جے پی بھگوا پرچم لہرانے کر مسلم اکثریتی شہر کی کارپوریشن پر میئر بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔یہ چناؤ پر مالیگاؤں کے شہریان کے امتحان کا چناؤ ہے ۔مالیگاؤں سمیت مہاراشٹر کی عوام اور ملک بھر کی نظر اس چناؤ پر لگی ہوئی ہے ۔اسمبلی و پارلیمنٹ چناؤ میں بی جے پی کو کراری شکست کے بعد اب مالیگاؤں کارپوریشن پر بھگوا پرچم لہرانے کی سازش کو روکنے کیلئے اور شہر پر آئی مصیبتوں ہو روکنے کیلئے سیکولر فرنٹ میں شامل انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹرا I.S.L.A.M پارٹی اور سماجوادی کے امیدواروں کو رکشا اور سائیکل پر ووٹ دیکر بھاری اکثریت سے کامیاب کرنا وقت کی ضرورت بن گیا ہے ۔مالیگاؤں شہر کی تعمیر و ترقی کیلئے ،شہریان کی حفاظت کیلئے ،فرقہ پرستوں سے لڑنے کیلئے اگر کسی میں سیاسی و سماجی تجربہ اور جگر ہے تو وہ سیکولر فرنٹ کے قائد آصف شیخ و مستقیم ڈگنیٹی میں ہی ہے ۔انکے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کیلئے عوام کامیاب کریں اور فرقہ پرستوں کو اقتدار سے دور رکھنے و پر امن و خوشحال مالیگاؤں کیلئے اپنا حصہ ووٹ کی شکل میں پیش کریں، یہی وقت اور حالات کا تقاضا ہے ۔آج فرقوں و خانوں میں تقسیم ہونے کا وقت نہیں ہے ۔جذباتی باتوں میں آکر اپنی ووٹ کو ضائع کرنے کا وقت نہیں ہے ۔یہ کارپوریشن چناؤ ہمارے گھروں، ہماری عبادت گاہوں، درگاہوں اور قبرستانوں کے تحفظ کا چناؤ ہے ۔اس لئے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے اپنی ووٹ تقسیم کئے بغیر عوام رکشا اور سائیکل نشان پر ہی ووٹ کریں ۔
اس طرح کے تفصیلی جملوں کا اظہار اسلام پارٹی کے روح رواں آصف شیخ نے کیا ۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس لئے چناؤ لڑتے ہیں کہ وہ کارپوریشن میں جا کر ٹھیکہ داری کرے ۔میں ان تمام سنگین حالات کے مطابق تعلیم یافتہ طبقے، دینی سماجی و عوامی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مرتبہ سیکولر فرنٹ کو ووٹ دیں ۔
عوام بالخصوص اسلام پارٹی کا جلسہ سماجوادی پارٹی کے ورکروں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ پرامن پولنگ کو مکمل طور ادا کروانے کی کوشش کریں، افواہوں پر دھیان نہ دیں، ووٹنگ پر توجہ دیں ۔
آصف شیخ نے اپوزیشن بالخصوص مجلس اتحاد المسلمین کے امیدواروں اور انکے لیڈران نے عوامی مفاد میں کوئی تشہیری مہم نہیں چلایا بلکہ ہمارے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا ہے ۔اس لئے شہریان آج کی رات توجہ دیں اور کام کرنے والے سیکولر فرنٹ کے تمام امیدواروں کو کامیاب کریں ۔
آصف شیخ نے کہا کہ ہم نے بہت محنت کی ہے اور ہمیں محنت کا پھل ملیگا ۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید اور خلیل دادا کے بغیر ہم اس چناؤ کو لڑ رہے ہیں، ہمیں کہیں نہ کہیں انکی کمی محسوس ہوئی لیکن عوام اور ہمارے ورکروں اور ووٹرس نے ہمارا ساتھ دیا اور اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ۔شہریان ساتھ کھڑے ہیں اور ہم فرقہ پرستوں سے لڑ رہے ہیں ۔اگر ہمیں کامیابی ملتی ہے تو ہم پورے شہر کو بلا تفریق ساتھ لیکر چلینگے، آصف شیخ نے کہا کہ ہم نے جو امیدوار میدان میں اتارا ہے اس سے ہمیں عوام کی ہمدردی و حمایت حاصل ہورہی ہے ۔آصف شیخ نے اپنے ورکروں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ پولنگ بوتھ پر حاضر رہیں اور ووٹنگ فیصد پر دھیان دیں ۔
آصف شیخ نے کہا کہ پکے وارڈ یعنی مفتی اسمٰعیل کے علاقوں میں بھی ہم نے امیدوار دیئے ہیں اور مضبوطی سے ہم چناؤ لڑ رہے ہیں ۔نیا پورہ، اسلام پورہ، اسلام آباد و بیلباغ وارڈ میں بھی ہم نے طاقت سے چناؤ لڑنے کی کوشش کی ہے اور ان علاقوں کی عوام ہمارے ساتھ ہے ۔میں ان علاقوں کے ووٹرس سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ نیا پورہ اسلام پورہ و بیلباغ وارڈ میں ہم نے جو امیدوار میدان میں اتارے ہیں وہ دیکھیں اور انکے امیدواروں کو دیکھیں ۔ہم نے عوامی کام کرنے والے امیدواروں کو موقع دیا ہے ۔آصف شیخ نے کہا کہ ہم سب کو ساتھ لیکر چلنے کا وعدہ کرتے ہیں ۔آصف شیخ نے کہا کہ مفتی اسمٰعیل نے الیکشن کے پرچار کے دوران بی جے پی لیڈران کی تعریف کی جو کہ مناسب نہیں ہے۔مفتی اسمٰعیل کی بی جے پی کی تعریف کے بعد بی جے پی لیڈر کی جانب سے مفتی اسمٰعیل کے بیان پر استقبال کا جملہ سامنے آنا یہ اتفاق نہیں ہوسکتا بلکہ کہیں نہ کہیں یہ ملی بھگت ہوسکتی ہے ۔اس لئے میری شہریان سے گزارش ہے کہ فرقہ پرستوں سے لڑنے کا جگر ہمارے اندر ہی اس لئے عوام ہمیں بھاری اکثریت سے کامیاب کریں ۔اس طرح کی اپیل بھی آصف شیخ نے کی ۔
