مالیگاؤں / مالیگاؤں شہر میں حالیہ تجاوزات ہٹانے کی کارروائی نے ایک مضبوط اور واضح پیغام دیا ہے کہ اگر انتظامیہ فیصلہ کرے تو وہ بغیر کسی امتیاز کے غیر جانبداری سے کام کر سکتی ہے۔ موجودہ میونسپل کارپوریشن میں اتحاد کے طور پر کام کرنے والی قیادت خواہ وہ سماج وادی پارٹی ہو، کانگریس ہو یا دیگر اتحادیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کے قول و فعل میں کوئی فرق نہیں ہے۔
اس کارروائی کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس میں ذات پات، مذہب، امیر غریب یا چھوٹے بڑے کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق نہیں کی گئی۔ ہر تجاوزات سے یکساں طور پر نمٹا گیا، خواہ وہ عام شہری ہو یا سیاسی جماعت ۔ سماج وادی پارٹی کے دفتر پر بھی کارروائی کرکے انہوں نے دکھایا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔
اس سے انتظامیہ پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔ ’’سیکولر‘‘ کی اصطلاح صرف الفاظ تک محدود نہیں ہے، اسے عملی طور پر بھی دکھایا گیا ہے۔ یہ ایک قابل ستائش قدم ہے جو آنے والے وقتوں کے لیے ایک مثبت مثال قائم کرے گا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تمام شہری اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر شہر کی ترقی کے لیے متحد ہو جائیں۔ بلا وجہ احتجاج کرنے کی بجائے نیک نیتی کے ساتھ جو کام ہو رہا ہے اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو جمہوری طریقے سے اس کی مخالفت ضروری ہے۔
تمام پارٹی اور اپوزیشن لیڈروں سے بھی گزارش ہے کہ شہر کے مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تعاون کی راہ پر چلیں۔ اگر ہم سب مل کر کام کریں تو مالیگاؤں کو ایک خوبصورت، منظم اور ترقی پسند شہر بنا سکتے ہیں۔
اس تناظر میں، شہر میں ایک مناسب "میونسپل مارکیٹ" بنانے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے، جیسا کہ دہلی میں کیا گیا ہے۔ وہاں ایک ہی جگہ پر سینکڑوں چھوٹی دکانوں کا انتظام کیا گیا ہے جس سے نہ صرف تجاوزات کا مسئلہ کم ہوا بلکہ تاجروں کو مستقل روزگار بھی ملا۔
اگر مالیگاؤں میں بھی 250 تا 400 دکانوں کا ایسا بازار بنا دیا جائے تو سڑک کنارے دکانداروں کو مناسب جگہ مل سکے گی اور شہر کا نظام بھی بہتر ہو گا۔ اس سے تجارت بڑھے گی، لوگوں کو سہولت ملے گی اور شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا۔
آئیے ہم سب محبت، بھائی چارے اور تعاون کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں اور اپنے شہر کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جائیں ۔
