مشہور خبریں

مدارس اور مکاتب کے ذمہ داران سےحضرت مولانا محمد ادریس عقیل ملی قاسمی کی اہم اپیل


مالیگاؤں /  شہری سطح پر قائم وفاق المدارس والمکاتب کے صدر محترم اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے معزز رکن حضرت مولانا محمد ادریس ملی قاسمی نے آج اپنے ایک صحافتی بیان میں فرمایا کہ وقف قانون ۲۰۲۵ء کے اور نقصانات کے علاوہ ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کی وجہ سے مدارس اسلامیہ کو سخت خطرات لاحق ہوں گے، اس قانون میں ایسی شقیں ہیں جس کی وجہ سے مدارس کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا، ابھی یہ قانون پوری طرح زمینی سطح پر نافذ ہوا بھی نہیں کہ مختلف صوبوں میں مدارس اسلامیہ کو نوٹس جاری کردیے گئے، آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ اترا کھنڈ کے ۱۸۷ مدارس سیل کردیے گئے، آسام، مدھیہ پردیش اور یوپی میں مدارس پر شکنجہ کسا جارہا ہے، یہ صورت حال نازک ہے اور آنے والے وقت میں مدارس اسلامیہ کو سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لیے وقف قانون ۲۰۲۵ کے سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ہدایت کے مطابق مضبوط اور مؤثر احتجاج ضروری ہے، شہری سطح پر دو بڑے احتجاجی اجلاس رکھے گئے ہیں، پہلا اجلاس خواتین کے لیے۲۸ اپریل بروز پیر بعد نماز مغرب معہد ملت کے گراؤنڈ پر منعقد ہوگا، جب کہ دوسرا اجلاس ۲۹ اپریل بروز منگل مالیگاؤں ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں شام ۶ بجے تا ۱۰ بجے منعقد ہوگاان شاء اللہ، ان دونوں اجلاس میں بورڈ کے اہم ذمہ داران تشریف لارہے ہیں، لہذا مدارس اسلامیہ اور مکاتب دینیہ کے ذمہ داران سے میں گذارش کرتا ہوں کہ ۲۹ اپریل بروز منگل کو بڑی مالیگاؤں ہائی اسکول کے گراؤنڈ پر ہونے والے اجلاس کی شرکت کے لیے شام کے وقت مکاتب ومدارس میں تعطیل کردیں، ابھی سے اس کا اعلان کریں، اور طلبہ واساتذہ کی شرکت کو یقینی بنائیں، اسی طرح مدارس اسلامیہ کے ذمہ دار حضرات سے گذارش ہے کہ بروز پیر کو ہونے والے مستورات کے اجلاس میں طالبات اور معلمات کو شریک رکھیں، اور مدارس کی طالبات کے ذریعے تمام بہنوں تک اس اجلاس کی خبر پہونچائیں، یہ وقت ہم سب کے لیے امتحان اور آزمائش کا ہے، ہمیں پورے حوصلےاور ہمت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، اللہ تعالی ہم سب کا مدد گار ہو۔ آمین یا رب العالمین) ۔

مدارس اور مکاتب کے ذمہ داران سے حضرت مولانا محمد ادریس عقیل ملی قاسمی کی اہم اپیل :

  شہری سطح پر قائم وفاق المدارس والمکاتب کے صدر محترم اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے معزز رکن حضرت مولانا محمد ادریس ملی قاسمی نے آج اپنے ایک صحافتی بیان میں فرمایا کہ وقف قانون ۲۰۲۵ء کے اور نقصانات کے علاوہ ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کی وجہ سے مدارس اسلامیہ کو سخت خطرات لاحق ہوں گے، اس قانون میں ایسی شقیں ہیں جس کی وجہ سے مدارس کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا، ابھی یہ قانون پوری طرح زمینی سطح پر نافذ ہوا بھی نہیں کہ مختلف صوبوں میں مدارس اسلامیہ کو نوٹس جاری کردیے گئے، آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ اترا کھنڈ کے ۱۸۷ مدارس سیل کردیے گئے، آسام، مدھیہ پردیش اور یوپی میں مدارس پر شکنجہ کسا جارہا ہے، یہ صورت حال نازک ہے اور آنے والے وقت میں مدارس اسلامیہ کو سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لیے وقف قانون ۲۰۲۵ کے سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ہدایت کے مطابق مضبوط اور مؤثر احتجاج ضروری ہے، شہری سطح پر دو بڑے احتجاجی اجلاس رکھے گئے ہیں، پہلا اجلاس خواتین کے لیے۲۸ اپریل بروز پیر بعد نماز مغرب معہد ملت کے گراؤنڈ پر منعقد ہوگا، جب کہ دوسرا اجلاس ۲۹ اپریل بروز منگل مالیگاؤں ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں شام ۶ بجے تا ۱۰ بجے منعقد ہوگاان شاء اللہ، ان دونوں اجلاس میں بورڈ کے اہم ذمہ داران تشریف لارہے ہیں، لہذا مدارس اسلامیہ اور مکاتب دینیہ کے ذمہ داران سے میں گذارش کرتا ہوں کہ ۲۹ اپریل بروز منگل کو بڑی مالیگاؤں ہائی اسکول کے گراؤنڈ پر ہونے والے اجلاس کی شرکت کے لیے شام کے وقت مکاتب ومدارس میں تعطیل کردیں، ابھی سے اس کا اعلان کریں، اور طلبہ واساتذہ کی شرکت کو یقینی بنائیں، اسی طرح مدارس اسلامیہ کے ذمہ دار حضرات سے گذارش ہے کہ بروز پیر کو ہونے والے مستورات کے اجلاس میں طالبات اور معلمات کو شریک رکھیں، اور مدارس کی طالبات کے ذریعے تمام بہنوں تک اس اجلاس کی خبر پہونچائیں، یہ وقت ہم سب کے لیے امتحان اور آزمائش کا ہے، ہمیں پورے حوصلےاور ہمت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، اللہ تعالی ہم سب کا مدد گار ہو۔ آمین یا رب العالمین)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.