مالیگاؤں / کل بروز بدھ مورخہ 11 فروری 2026 مطابق 22 شعبان المعظم 1447 بعد نماز مغرب فوراً گٹ نمبر 116 درے گاؤں شیوار میں جامعہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا آٹھواں سالانہ جلسہ عام منعقد کیا گیا جس کا آغاز جامعہ کے مؤقر استاد حافظ محمد اعظم صاحب محمدی کی قرأت قرآن مجید سے ہوا اور اس کے بعد جامعہ کے ایک ہونہار طالب علم نے حمد باری تعالیٰ جبکہ دوسرے طالب علم نے نعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نذرانہ عقیدت پیش فرمایا اور اس کے بعد جامعہ میں زیرِ تعلیم طلبہ عزیز کا انتہائی مختصر اور دلچسپ پروگرام پیش کیا گیا جسے سامعین و سامعات جلسہ نے بہت ہی پسند فرمایا۔
واضح رہے اس کے بعد جامعہ کے ناظم *حافظ عقیل احمد ملی قاسمی* نے سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے جہاں اب تک کی کارکردگی پیش فرمائی وہیں آئندہ کے بلند عزائم کا اظہار کرتے ہوئے برادران اسلام سے منصوبے کی تکمیل میں حصہ لینے کی درخواست بھی کی۔
بعد ازاں امسال جامعہ سے ناظرہ قرآن مجید کی تکمیل کرنے والے ایک طالب علم نے مؤقر علماء کے سامنے تکمیل فرمائی اور اس کے بعد اس پروگرام کے مہمان مقرر خصوصی جامعہ دار القرآن والسنۃ کے مہتمم مکرم مسجد کے امام وخطیب حضرت مولانا *مفتی عطاء الرحمن صاحب انوری*دامت برکاتہم نے عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ۔ اہلیان محلہ کو اس جامعہ کی قدر کرنی چاہئے کیونکہ اتنے کنارے کے علاقے میں تعلیم کا انتظام کرنا آسان کام نہیں ہے اور حقیقی معنوں میں قدر یہی ہے کہ آپ اپنے بچوں اور بچیوں کو پابندی سے مدرسہ روانہ فرمائیں ناغہ بالکل نہ ہونے دیں اسی طرح بستی کا ہر فرد اس بات کی فکر کرے کہ ہمارا کوئی بچہ یا بچی تعلیم سے محروم نہ رہنے پائے۔ آج کے اس پر فتن دور میں ایمان کی حفاظت ضروری ہے اور اس کا آسان اور بنیادی ذریعہ مکاتب قرآنیہ اور مدارس اسلامیہ سے اپنے بچوں اور بچیوں کو وابستہ رکھنا ہے لہذا ہم سب کو اس کی فکر کرنا چاہیے۔ اسی طرح حضرت والا نے اپنے پرمغز خطاب کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ۔ تعلیم پر خرچ کرنا بڑی نیکی کی بات ہے لہذا ہفتہ واری فیس وغیرہ پابندی سے ادا کرتے ہوئے الگ سے مدرسہ کا کچھ نہ کچھ تعاون ہمیں کرنا چاہیے۔ طلباء وطالبات کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے حوصلے بلند رکھنے کے لئے اتنا کافی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ فرشتوں کو اپنے پر بچھانے کا اور سمندر کی مچھلیوں کو دعائے مغفرت کرنے کا حکم فرماتے ہیں لہذا ہمیں دل لگا کر تعلیم حاصل کرنا چاہیے اور اپنے اساتذہ کی عزت کرنا چاہیے۔
بعد ازاں اس پروگرام کے صدر محترم حضرت مولانا مفتی *محمد دین ملی* دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے ہاتھوں طلباء عزیز کو انعامات سے نوازا اور ان کے علاوہ بھی مجمع میں موجود اہلیان محلہ اور بزرگوں کے ہاتھوں انعامات کی تقسیم عمل میں آئی اور پھر اخیر میں حضرت صدر موصوف کی دل سوز دعا اور ناظم جامعہ کے شکریہ پر پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔
اس پروگرام کی نظامت جامعہ کے مؤقر استاد حضرت مولانا مفتی عبد المالک صاحب ملی دامت برکاتہم نے بحسن وخوبی انجام دی۔ جبکہ شہر عزیز مالیگاؤں کے مؤقر علماء کرام خصوصاً مولانا امین الجبار صاحب ملی مولانا عبد الحسیب صاحب ملی مولانا ناظم صاحب وغیرہ کے ساتھ ساتھ معاونین جامعہ میں شریف بھائی اور ان کی پوری ٹیم اسی طرح ظہیر بھائی اور ان کی پوری ٹیم شریک جلسہ رہی جس سے ہم خدام جامعہ کو بہت حوصلہ ملا لہذا ہم ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے دل سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان حضرات کو اپنے شایان شان بدلہ عطا فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔ جاری کردہ صدر و اراکین شاہ ولی اللہ اکیڈمی مالیگاؤں ، اسطرح کی تفصیلات بغرض اشاعت حافظ عقیل احمد ملی قاسمی نے فراہم کی ہے ۔
