مالیگاؤں : ڈپٹی میئر شان ہند نہال احمد کی آفس میں ٹیپو سلطان کی تصویر لگائے جانے کے بعد پیدا ہونے والے تنازع نے اب نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے گٹ نیتا مستقیم ڈگنیٹی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یہ معاملہ اب صرف ایک تصویر لگانے یا ہٹانے کا نہیں رہا، بلکہ ٹیپو سلطان کی تاریخی حیثیت اور انہیں اس ملک کے ہیرو کے طور پر تسلیم کرنے کے حق کی قانونی لڑائی بن چکا ہے۔
میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ وہ اس معاملے کو قانون کے دائرے میں رہ کر ”آر یا پار“ تک لے کر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیپو سلطان کوئی معمولی تاریخی شخصیت نہیں بلکہ برطانوی اقتدار کے خلاف لڑنے والے ایک اہم تاریخی کردار ہیں، جنہیں ملک کی تاریخ میں مختلف حوالوں سے یاد کیا جاتا ہے۔
ڈگنیٹی نے کہا کہ ”ایک تصویر لگانے سے ہمیں کوئی شہرت حاصل نہیں کرنی ہے اور نہ ہی یہ کسی شخص کی ذاتی لڑائی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ٹیپو سلطان کو ہیرو کیوں نہیں مانا جا رہا؟“
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سلسلے میں پولیس محکمہ کی جانب سے جاری رہنما ہدایات اور مہانگر پالیکا کے نگر سچیو کی جانب سے دیے گئے خط کو بھی وہ سامنے رکھ چکے ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ دستاویزات کی بنیاد پر تصویر لگانے کے معاملے میں قانونی پوزیشن واضح ہونی چاہیے۔
مستقیم ڈگنیٹی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ”اگر پولیس محکمہ یا مہانگر پالیکا کے افسران ہمیں صاف طور پر تحریری جواب دے دیں کہ ٹیپو سلطان کی تصویر لگانا نہیں چاہیے تو میں دوسرے ہی منٹ تصویر ہٹانے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن فیصلہ کسی کے دباؤ یا سیاسی اعتراض کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔“
”ٹیپو سلطان کا نام سن کر فرقہ پرستوں کو وہی بے چینی ہوتی ہے جو انگریزوں کو ہوتی تھی“
ٹیپو سلطان کے خلاف مبینہ طور پر قابلِ اعتراض زبان استعمال کیے جانے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈگنیٹی نے کہا کہ ایسے لوگوں کے خلاف بھی انہوں نے قلعہ پولیس اسٹیشن کے پی آئی سے شکایت کی ہے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق گزشتہ کچھ برسوں میں ٹیپو سلطان جیسے تاریخی کردار کو ایک خاص انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ”اگر آج ہم ایک تاریخی ہیرو کے خلاف استعمال ہونے والی غلط زبان کو نظرانداز کریں گے تو کل کسی اور مسلم تاریخی شخصیت کے خلاف بھی اسی طرح کی باتیں کی جا سکتی ہیں۔“
ڈگنیٹی نے کہا کہ وہ ٹیپو سلطان کو آج بھی اس ملک کا ہیرو مانتے ہیں اور ان کے مطابق اس موقف کے لیے جدوجہد آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر جاری رہے گی۔
”یہ لڑائی مالیگاؤں تک محدود نہیں رہے گی“
مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ مختلف سرکاری پروگراموں اور قومی سطح کی جھانکیوں میں بھی ٹیپو سلطان کی تاریخی شخصیت کا ذکر اور نمائندگی سامنے آتی رہی ہے۔ ان کے مطابق اسی لیے یہ معاملہ محض مالیگاؤں میں ایک تصویر لگانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ”یہ لڑائی تصویر لگانے یا نہ لگانے کی نہیں ہے۔ یہ سوال ہے کہ ایک تاریخی شخصیت کو تاریخ اور قانونی اصولوں کے مطابق عزت کیوں نہیں دی جا رہی۔ ہم اپنی لڑائی قانون کے دائرے میں رہ کر لڑیں گے اور مجھے یقین ہے کہ یہ معاملہ آگے ایک بڑی بحث کو جنم دے گا۔“
ڈگنیٹی نے بتایا کہ اس معاملے پر ڈپٹی میئر شان ہند نہال احمد پیر کے روز اپنا موقف اور آئندہ کی حکمتِ عملی بھی میڈیا کے سامنے پیش کریں گی۔
ٹیپو سلطان کے معاملے کے علاوہ مستقیم ڈگنیٹی نے موجودہ ایم ایل اے مفتی محمد اسماعیل کی جانب سے ان کے خلاف مبینہ الزامات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے ایڈیشنل ایس پی سورج گنجاڑ کو تحریری شکایت دے کر مطالبہ کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات کی مکمل جانچ کی جائے اور اگر الزامات کے ثبوت موجود ہیں تو انہیں قانون کے سامنے پیش کیا جائے۔
ڈگنیٹی نے کہا کہ اگر ان کے خلاف بھارت بازار کے لوگوں سے 68 لاکھ روپے کی مبینہ وصولی کا کوئی ثبوت موجود ہے تو اسے عوام اور پولیس کے سامنے پیش کیا جائے اور اگر الزام بے بنیاد ہے تو جھوٹا الزام لگانے والے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ”میں خود پولیس محکمہ میں آکر شکایت دے رہا ہوں۔ اگر میرے خلاف ثبوت ہے تو مجھ پر کارروائی کی جائے، لیکن اگر ثبوت نہیں ہے تو پھر جھوٹے الزامات کا بھی حساب ہونا چاہیے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے۔“
