مشہور خبریں

مہاراشٹر کی اسکولوں کیلئے فوڈ سیفٹی کمشنر تکارام منڈے کا سخت حکم نامہ ،اسکولوں کے پچاس میٹر کے اطراف میں جنک فوڈ پر پابندی،FSSAI لائسنس لازمی، اسکول ، ہاسٹل ، کینٹین کیلئے نئے اصول نافذ ، پھل، سبزیاں، اناج، دالیں اور مقامی صحت مند اشیاء کو مینو میں شامل کرنے کی ہدایت خلاف ورزی کرنے پر جیل،جرمانہ اور سخت سزا کا اطلاق ، شکایت کیلئے ہیلپ لائن نمبر جاری

ممبئی : مہاراشٹر کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر تکارام منڈے نے 28 جولائی 2026 کو ایک اہم حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ریاست کے تمام سرکاری، امدادی اور نجی اسکولوں میں بچوں کے لیے محفوظ، صحت مند اور متوازن غذائی نظام کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم نامہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (اسکول کے بچوں کے لیے محفوظ غذا اور متوازن خوراک) ریگولیشنز 2020 کے مکمل نفاذ کے لیے جاری کیا گیا ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ہر شخص کو باعزت زندگی کا حق حاصل ہے، جس میں صحت اور غذائیت کا حق بھی شامل ہے۔ آرٹیکل 47 ریاستی حکومت پر عوام کی غذائیت کی سطح بلند کرنے اور صحت بہتر بنانے کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ اسکول کے بچے معاشرے کا سب سے حساس طبقہ ہیں اور غیر محفوظ یا غذائیت سے محروم خوراک ان کے جسمانی، ذہنی اور تعلیمی ترقی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے تحت ریاستی فوڈ سیفٹی کمشنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس ایکٹ اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ 2020 کے ریگولیشنز 1 جولائی 2021 سے نافذ العمل ہیں اور پورے بھارت بشمول مہاراشٹر کے تمام اسکولوں پر لاگو ہیں۔ ان میں اسکول انتظامیہ پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ خود کھانا فراہم کرنے کی صورت میں ایف ایس ایس اے آئی لائسنس یا رجسٹریشن حاصل کریں، ٹھیکیداروں کے پاس بھی درست لائسنس ہو، اور ہائی فٹ، سالٹ، شوگر (ایچ ایف ایس ایس) والے کھانے کی فروخت، تقسیم یا نمائش پر مکمل پابندی عائد کریں۔
حکم نامے کے مطابق یہ آرڈر سرکاری، امدادی اور غیر امدادی نجی اسکولوں، پری پرائمری سے لے کر سیکنڈری سطح تک، رہائشی اسکولوں اور ہاسٹلز پر لاگو ہوگا۔ریاستی بورڈ، سی بی ایس ای، آئی سی ایس ای اور دیگر بورڈز سے وابستہ تمام اسکول بھی اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ تاہم دو سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے چلڈرن کیئر یا ڈے کیئر سینٹرز اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ تمام فوڈ بزنس آپریٹرز، کینٹین، مڈ ڈے میل سپلائرز، ٹک شاپس اور اسکول کے آس پاس کھانا فراہم کرنے والے افراد و ادارے بھی اس آرڈر کے پابند ہوں گے۔ہر اسکول انتظامیہ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ طلبہ کو فراہم کی جانے والی خوراک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن کی غذائی رہنما خطوط اور ICMR کی ہدایات کے مطابق ہو۔کھانے میں کاربوہائیڈریٹ،  پروٹین، چکنائی کے ساتھ آئرن ، کیلشیم، وٹامن اے اور ڈی، آیوڈین اور فولیٹ جیسی اہم غذائی اجزاء شامل ہوں۔ پھل، سبزیاں، اناج، دالیں اور مقامی صحت مند اشیاء کو باقاعدگی سے مینو میں شامل کیا جائے۔ ایچ ایف ایس ایس اشیاء جیسے زیادہ چینی والے مشروبات، کاربونیٹڈ ڈرنکس، تلا ہوا اسنیکس اور انتہائی پراسیسڈ فوڈز کی فروخت یا دستیابی پر مکمل پابندی ہوگی۔ پینے کا پانی محفوظ اور اعلیٰ معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔اسکول انتظامیہ کی ذمہ داریاں واضح کی گئی ہیں جن میں تمام فوڈ آپریٹرز کے پاس درست ایف ایس ایس اے آئی لائسنس کی جانچ، شیڈول 4 کے تحت صفائی و صحت کے معیارات کی پابندی، صحت و تندرستی کے نوڈل آفیسر کی تقرری و تربیت،اسکول کے گیٹ پر انتباہی بورڈ لگانا، اور 50 میٹر کے دائرے میں ایچ ایف ایس ایس اشیاء کی فروخت روکنا شامل ہے۔اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو مڈ ڈے میل اور دیگر غذائی اسکیموں کے تحت کام کرنے والے تمام سپلائرز کے لائسنس کی تصدیق کرنی ہوگی اور ہر سال 31 مارچ تک کمشنر کو تعمیل کی رپورٹ جمع کرانی ہوگی۔

تعلقہ بورڈز کو غذائی حفاظت کی تعمیل کو اسکول کی وابستگی اور تجدید کے لیے لازمی شرط بنانا ہوگا۔ فوڈ سیفٹی آفیسرز کو ہر تعلیمی سال میں کم از کم دو بار اسکولوں کا معائنہ کرنا ہوگا، کھانے کے نمونے جمع کرنے ہوں گے اور بغیر لائسنس والے آپریٹرز کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ 50 میٹر زون کی خلاف ورزی پر ایچ ایف ایس ایس اشیاء ضبط کی جا سکیں گی اور متعلقہ کارروائی کی جائے گی۔حکم نامے میں ایٹ رائٹ اسکول مہم کے تحت ہر اسکول کو غذائی پالیسی بنانے، محفوظ پینے کے پانی کے مراکز قائم کرنے، سال میں کم از کم چار آگاہی نشستیں منعقد کرنے اور صحت مند خوراک کا نمونہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔والدین اور طلبہ کو ایچ ایف ایس ایس اشیاء کے نقصانات، بچوں کی غذائی ضروریات اور ایف ایس ایس اے آئی ہیلپ لائن 1800-112-100 کے ذریعے شکایت درج کرانے کے طریقے سے آگاہ کیا جائے گا۔یہ حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہے اور آئندہ تمام تعلیمی سالوں کے لیے مستقل آرڈر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی خلاف ورزی پر فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت سخت سزائیں عائد کی جا سکتی ہیں جن میں جیل اور بھاری جرمانہ شامل ہے۔ کمشنر نے تمام متعلقہ محکموں، ڈسٹرکٹ کلیکٹرز، بورڈز اور فوڈ سیفٹی آفیسرز کو اس حکم کی مکمل تعمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔اس آرڈر کا مقصد مہاراشٹر کے لاکھوں اسکول جانے والے بچوں کو غیر محفوظ اور غیر صحت مند خوراک سے بچانا اور ان کی صحت مند نشوونما کو یقینی بنانا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.