تھانہ / تعلیمی نظام میں بدعنوانی کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے کسی ایٹم بم سے کم نہیں ، جب تعلیمی افسر خود کرپٹ ہو تو ملک کی ریڑھ کی ہڈی کمزور ہو جاتی ہے، قوم کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اسی طرح کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے جس میں تھانے میں ٹیچنگ آفیسر دیوداس مہاجن ناسک شالارتھ آئی ڈی گھوٹالے کے ملزمین میں سے ایک ہیں۔ تھانے میں دیوداس مہاجن کھلے عام بدعنوانی کو فروغ دے رہے تھے ۔ غور طلب ہے کہ ناسک شالارتھ آئی ڈی گھوٹالے میں دیوی داس مہاجن سمیت 15 ملزمان تھے۔ ناسک کی عدالت نے ان 15 ملزمان کی پیشگی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ناسک کی سیشن کورٹ نے تعلیمی نظام میں مبینہ بدعنوانی کے سلسلے میں بہت سخت موقف اختیار کیا ہے اور اسٹوڈنٹ آئی ڈی گھوٹالے کے 15 ملزمان کی پیشگی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت کے تبصروں نے محکمہ تعلیم میں جاری مبینہ دھاندلی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے تعلیمی نظام میں بدعنوانی کے حوالے سے انتہائی سنگین تبصرے کیے۔ عدالت نے کہا کہ کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے ایٹم بم کی ضرورت نہیں، تعلیمی نظام میں کرپشن کو پنپنے دیا جائے تو آنے والی نسلوں اور قوم کے مستقبل کو کمزور کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس معاملے میں، ناسک ڈویژن میں تقریباً 849 اساتذہ اور غیر تدریسی عملے پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر 2021 اور 2025 کے درمیان بغیر ذاتی تصدیق کے احکامات کے شالارتھ آئی ڈی بنائے۔ الزامات کے مطابق، اس پورے معاملے میں سرکاری خزانے سے تقریباً 160 کروڑ روپے کا مبینہ غیر قانونی غبن شامل ہے، جس کی تحقیقات ابھی جاری ہے۔ اس معاملے میں عہدیداروں اور اداروں کے قائدین کے خلاف 160 کروڑ روپئے کے غبن کے سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن، ایجوکیشن آفیسر، اکاونٹس آفیسر، سپرنٹنڈنٹ، انسٹی ٹیوشن ڈائریکٹر، ہیڈ ماسٹر، کلرک اور اساتذہ سمیت کل 15 ملزمان نے پیشگی ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ تاہم کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عدالت نے ضمانت دینے سے انکار کردیا۔ جس سے محکمہ تعلیم میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ اس فیصلے کو محکمہ تعلیم کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ شالارتھ آئی ڈی کے ذریعے سرکاری پے رول سسٹم میں فرضی ملازمین کو شامل کرکے سرکاری فنڈز کے مبینہ نقصان کی تحقیقات اور بھی اہم ہو گئی ہیں۔ عدالت کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں مسترد ہونے سے یہ صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔ مبینہ گھوٹالے کی تحقیقات ایک نیا رخ اختیار کرنے کا امکان ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ 160 کروڑ روپے کے گھوٹالے کے بعد دیوی داس مہاجن نے اپنے سیاسی اور انتظامی رابطوں کا استعمال کرتے ہوئے تھانے میں ایجوکیشن آفیسر کے طور پر تقرر کیا تھا۔ وہ تمام اسکولوں میں بلیک مارکیٹنگ کو فروغ دینے کے لیے غیر قانونی آمدنی پیدا کرتا رہتا ہے۔ انتظامیہ دیوی داس مہاجن جیسے بدعنوان اہلکاروں پر اتنا نرم کیوں ہے؟ یہ سوال بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تھانے میں ایجوکیشن آفیسر دیوی داس مہاجن کو معطل کر کے ان کے اثاثوں کی چھان بین کی جانی چاہیے۔ ایکشن لینے کی بجائے تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کے لیے ایسے کرپٹ اہلکار کو تعینات کیا گیا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وزیر تعلیم اس معاملے میں کوئی ٹھوس کارروائی کرتے ہیں یا دیوی داس مہاجن جیسے بدعنوان عہدیداروں کو آشیرواد دیتے رہتے ہیں۔
