مشہور خبریں

بچوں کے جنسی استحصال کی ویڈیوز نشر ، سوشل میڈیا کے مشتبہ آئی ڈی ہولڈرز، پروفائل ہولڈرز اور موبائل ہولڈرز کے خلاف مقدمات درج , نابالغ بچوں کی فحش تصاویر یا ویڈیوز کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دیکھنا، ڈاؤن لوڈ کرنا، سیو کرنا یا آگے فارورڈ کرنا انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون کے تحت سنگین اور ناقابل ضمانت جرم

ناسک /  سوشل میڈیا کا استعمال کرکے چوری چھپے چھوٹے بچوں کے جنسی استحصال کی فحش ویڈیوز (چائلڈ پورنوگرافی) اپ لوڈ، شیئر اور ڈاؤن لوڈ کرنے والی منحرف ذہنیت کے خلاف ناسک شہر سائبر پولیس نے کارروائی کی ہے۔ ریاستی سائبر سیکیورٹی محکمہ سے حاصل شدہ خفیہ ٹپ لائن ڈیٹا کی بنیاد پر مجموعی طور پر 23 مشتبہ آئی ڈی ہولڈرز، پروفائل ہولڈرز اور موبائل ہولڈرز کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

ذرائع سے ملی تفصیلات کے مطابق 11 نومبر 2024 سے 13 اکتوبر 2026 کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے انٹرنیٹ کا استعمال کرکے چھوٹے بچوں کے جنسی استحصال کی پوسٹ، ویڈیوز اور لنکس سوشل میڈیا پر نشر کیے جا رہے تھے ۔ ریاستی سائبر سیکیورٹی محکمہ سے حاصل شدہ معلومات میٹا انٹیلیجنس سسٹم سے جڑی ہوئی تھی۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعے یہ معلومات ریاستی حکومت کو اور اس کے بعد ناسک شہر سائبر پولیس کو منتقل کی گئی ۔ سائبر پولیس نے اس تکنیکی ڈیٹا کا تجزیہ کرکے مشتبہ افراد کا درست لوکیشن ٹریس کیا اور کارروائی کا ڈنڈا چلایا ۔
*ٹپ لائن کیسے کام کرتی ہے؟*

میٹا جیسی سوشل میڈیا کمپنیوں کے خودکار سسٹم میں نابالغ بچوں کی فحش ویڈیوز یا تصاویر ملنے پر وہ سسٹم فلیگ ہو جاتا ہے۔ یہ معلومات ہندوستان سرکار کی مرکزی وزارت داخلہ کے ذریعے ریاستی سائبر سیکیورٹی محکمہ کو بھیجی جاتی ہے۔ اس معلومات میں متعلقہ یوزر کا آئی پی ایڈریس، سوشل میڈیا پروفائل لنک، موبائل نمبر اور ویڈیو شیئر کرنے کا درست وقت جیسا مضبوط ثبوت ہوتا ہے۔ ٹپ لائن ملتے ہی مقامی سائبر پولیس تھانہ متعلقہ سم کارڈ اور انٹرنیٹ کنکشن کی ڈیجیٹل لوکیشن کا سراغ لگا کر کارروائی کرتا ہے۔

*ڈاؤن لوڈ کرنا یا دیکھنا بھی جرم ہے!*

نابالغ بچوں کی فحش تصاویر یا ویڈیوز کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دیکھنا، ڈاؤن لوڈ کرنا، سیو کرنا یا آگے فارورڈ کرنا انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون کے مطابق اور پوکسو قانون کے تحت سنگین اور ناقابل ضمانت جرم ہے۔ صرف ویڈیو شیئر کرنے والا ہی نہیں، بلکہ اسے ڈیجیٹل شکل میں محفوظ رکھنے والا یوزر بھی قانون کی گرفت میں آتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.