مالیگاؤں / مورخہ 19 فروری 2023 بمطابق ٢٧ رجب المرجب ١٤٤٤ھ بروز اتوار بعدِ نمازِ عشاء ساڑھے نو بجے حمیدیہ مسجد( بڑا قبرستان) میں مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ اور ادارہ پیغامِ جامعی کی جانب سے حضرت مولانا عبدالباری صاحب قاسمی رح کے فرزندِ اکبر جامعہ ثناء العلوم للبنات کے ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب جمالی کا جامعہ اسلامیہ عربیہ ترجمہ والی مسجد بھوپال کے رکن شوریٰ منتخب ہونے کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا انعقاد ہوا، اِس تقریب کا آغاز جمعیتِ علماء سلیمانی چوک کے جنرل سیکرٹری و ناظمِ تنظیم قاری اخلاق احمد جمالی صاحب صدارت میں ہوا، اس پروگرام کی نظامت صدر مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ مولانا سفیان احمد جمالی صاحب کے سپرد تھی، تقریب کی غرض و غایت مولانا اسماعیل جمالی صاحب پیش کرتے فرمایا کہ مولانا عبدالباری صاحب کے انتقال کے بعد ارکانِ شوریٰ کی نظر عنایت، مولانا عبدالرحمن صاحب پر پڑی اور دیگر اہم باتوں کو بھی آشکارا کیا، بعدہ حضرت مولانا عمران اسجد ندوی صاحب نے اپنے تہنیتی خطاب میں فرمایا کہ یہ بات ہمارے شہر کے لئے باعثِ و عز فخر ہے کہ رُکن شوریٰ جیسے رفیعِ منصب کے لیے ہمارے استاذ زادے ہمارے برادر مولانا عبدالرحمن صاحب کو منتخب کیا گیا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ منجانب اللہ ایک انعام ہے کیونکہ اِس کے بیشتر ارکان صاحبِ نسبت اور اپنے زمانے کے نامور اور مردم ساز اصحابِ علم و فضل تھے، بعدہ صاحبِ اعزاز مولانا عبدالرحمن صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میں سب حضرات کا دل سے ممنون و مشکور ہوں کہ آپ حضرات نے میری حوصلہ افزائی کے لئے اس تقریب کا انعقاد کیا، پھر تفصیلاً تمام روداد کو ذکر کرتے ہوئے کام کے عزائم اور طریقہ فعالیت کو جوش و جذبے کے ساتھ ہر کو ساتھ میں لیکر چلنے کے متعلق گرانقدر باتیں ارشاد فرمائی ، پھر صدرِ تقریب قاری اخلاق احمد جمالی صاحب نے ، رُکن شوری کی اہمیت اور اس کی ذمہ داری پر پُر مغز و بلیغ باتیں ارشاد فرمائی، موصوف نے فرمایا کہ اتنے بڑے ادارے کا رکن شوریٰ منتخب ہونا نعمتِ غیر مترقّبہ سے کم نہیں ہے، کیونکہ ترجمہ والی مسجد بھوپال ملک ہندوستان میں اپنی اہم اور منفرد شناخت کا حامل ادارہ ہے، پھر ایک شعر سے اس کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا، ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا پھر صاحبِ اعزاز کا مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ ،ادارہ پیغامِ جامعی (مالدہ شیوار مالیگاؤں) اور حافظ عبیدالرحمن صاحب جمالی (برادرِ خُورد مولانا عبد الرحمن صاحب جمالی ) کی جانب سے گرانقدر تحائف کے ذریعے اعزاز و استقبال کیا گیا
اس تقریب میں مولانا سفیان احمد جمالی صاحب ،مولانا ابو اسامہ یوسفی صاحب ،قاری طفیل احمد محمدی صاحب ،مولانا کلیم احمد جمالی صاحب، مفتی محمد اسلم جامعی صاحب، مفتی شعیب سلیم انوری صاحب ، انصاری حافظ عبدالله (عبداللہ بک ڈپو) محمد عمران ظہیر پینٹر، مولانا سفیان احمد جمالی صاحب فرینڈس سرکل ،مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ کے جمیع ممبران شریک رہے،


