مالیگاؤں : یکم اپریل / شیوسینا ادھو بالاصاحب ٹھاکرے پارٹی کے ڈپٹی لیڈر ادوئے ہیرے نے دادا بھسے کو سیاسی طور پر چلینج کرتے ہوئے مالیگاؤں میں ادھو ٹھاکرے کا کامیاب جلسہ منعقد کروایا جس کے چلتے ہیرے کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ مالیگاؤں کے دو مختلف پولس اسٹیشنوں میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ہیرے سمیت کل 32 لوگوں پر الزام لگایا گیا ہے۔ اس معاملہ میں ہیرے خاندان کے کچھ افراد ملوث ہونے کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ناسک کے رابطہ وزیر دادا بھوسے کے خلاف چیلنج اٹھانے کے بعد ہیرے کے خاندان کی پریشانیوں میں اضافے کی وجہ سے مالیگاؤں اور ناسک ضلع میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتہ مہاتما گاندھی ودیامندر اور آدیواسی سیوا سمیتی میں دھوکہ دہی کے شکار نوجوانوں نے احتجاج کیا تھا۔ اس پر پہلا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
اس کے فوراً بعد ضلع بینک کے عہدیداروں کی جانب سے رینوکادیوی ینترماگ انڈسٹریل انسٹی ٹیوٹ کے معاملے میں ضلع بینک کو تقریباً 32 کروڑ کی دھوکہ دہی کرنے کی شکایت پر پولس میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر دونوں مقدمات کی وجہ سے ہیرے خاندان کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔ مالیگاؤں شہر کے دو پولس اسٹیشن میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ ادھو ٹھاکرے کا اجلاس کچھ دن پہلے ہوا تھا جس کے بعد ادوئے ہیرے کی سیاسی طاقت میں اضافہ ہوا۔ اس ضمن میں مالیگاؤں کیمپ پولس اسٹیشن میں سٹانہ کے راجندر گانگورڈے نے ادوئے ہیرے اور اس کے قریبی لکی کھیرنار کے خلاف 4 افراد کو نوکری دلانے کا لالچ دے کر مالی دھوکہ دہی کرنے کی شکایات دی ہے۔
شیوسینا کے ادھو بالاصاحب ٹھاکرے کے گروپ میں ادوئے ہیرے کی شمولیت اور مالیگاؤں پولس اسٹیشن میں دو جگہوں پر مقدمہ درج ہونا کئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ اب سوال پیدا ہورہا ہے کہ ڈسٹرکٹ بینک نے اتنے عرصے تک کارروائی کیوں نہیں کی؟ کیا یہ کسی سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے؟ ایسا سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے۔




