ناسک/ضلع ڈپٹی رجسٹرار ستیش کھرے، جو حال ہی میں منتخب مارکیٹ کمیٹی کے ڈائریکٹر سے 30 لاکھ روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے، عدالت نے انہیں 19 مئی تک 'اے سی بی' کی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ وکیل شیلیش سمتی لال سبدرا کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت بگڑنے کی وجہ سے انہیں ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
ضلع کے ڈپٹی رجسٹرار ستیش کھرے پیر (15 مئی) کی رات کالج روڈ پر واقع کھرے کی رہائش گاہ پر محکمہ انسداد بدعنوانی کی طرف سے بچھائے گئے جال میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ اس معاملے میں مداخلت کرنے والے وکیل شیلیش سمتی لال سبدرا کو بھی بعد میں حراست میں لے لیا گیا۔ کھرے کو گرفتار کرنے کے بعد دوسری ٹیم کے ذریعہ گھر تلاشی کے دوران 16 لاکھ کی نقدی اور 43 تولہ سونے کے زیورات ضبط کئے گئے۔
ضلع کے ڈپٹی رجسٹرار ستیش کھرے اور وکیل شیلیش سبدرا کو منگل کی دوپہر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ (نمبر 6) کے جج آر.آر. راٹھی کے سامنے پیش کیا گیا۔ اسسٹنٹ پبلک پراسیکیوٹر دیپ شیکھا بھیڈے نے حکومت کی طرف سے بحث کی۔ دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کھرے کو 19 مئی تک پولیس کی تحویل میں دینے کا حکم دیا۔ جبکہ سبدرہ کو عدالتی تحویل میں روانہ کیا گیا۔ اس کے بعد سبدرا کی حالت مزید بگڑ گئی اور اسے ضلع اسپتال لے جایا گیا۔ سبدرا کی جانب سے سینئر وکیل اویناش بھیڈے نے بحث کی۔ سبدرا کی ضمانت کی درخواست بدھ کو عدالت میں دائر کی جائے گی۔
اس دوران ایس وائی پوری نے ضلع ڈپٹی رجسٹرار کا چارج سنبھال لیا ہے ، معلوم ہوکہ وہ نندربار میں کام کر رہے تھے۔ محکمہ رشوت ستانی کی کارروائی سے محکمہ کوآپریٹو میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔


