مشہور خبریں

وفاق المدارس والمکاتب کے تحت شہری سطح پر شعبہ مکاتب کا متحدہ پلیٹ فارم قیام ، مدارس ومکاتب کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی مانند ، مدارس و مکاتب کے نظام اور نصاب تعلیم کو مزید منظم اور مستحکم کیا جائے : مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی

 


مالیگاؤں / آج جمعرات دوپہر 12 بجے معہد ملت کے کانفرنس ہال میں وفاق المدارس والمکاتب عنوان پر پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ، جس میں ذمہ داران نے تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مورخہ ۲۰؍ستمبر ۲۰۲۳ء بروز بدھ صبح گیارہ بجے معہد ملت کے کانفرنس ہال میں وفاق المدارس والمکاتب کی مشاورتی نشست منعقد ہوئی،جس کی صدارت مولانا محمد ادریس عقیل ملی قاسمی (صدروفاق المدارس والمکاتب) نے فرمائی ۔تلاوت کلام پاک اور نعت پاک کے ذریعے اس نشست کاآغاز ہوا،ابتدائی خطاب مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی (جنرل سکریٹری وفاق المدارس والمکاتب)نے فرمایا،انہوں نے تشریف لانے والے مکاتب دینیہ وقرآنیہ کا استقبال کیا اور اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ مدارس ومکاتب کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے ،نئی نسلوں کی دینی وتعلیم وتربیت اور دین کی تشریح اور تحفظ کا عظیم الشان فریضہ مدارس ومکاتب کے ذریعہ انجام پارہا ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں مدارس و مکاتب کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے بڑھتے قدم کو روکنے کی کوشش کی گئی ،لیکن ہمارے اکابر واسلاف کی دور اندیشی اور فراست ایمانی کے نتیجہ میں مدارس ومکاتب آج بھی قائم ہیں اور الحمدللہ مدارس کی طرح مکاتب بھی بہت ہی منظم انداز میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں مدارس سے زیادہ مکاتب کی اہمیت ہے ،جن کے ذریعے نئی نسل کو دین سے روشناس کرانے اور ان کے ایمان کے تحفظ کافریضہ انجام پارہا ہے،ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس و مکاتب کے نظام اور نصاب تعلیم کو مزید منظم اور مستحکم کیا جائے ،اس غرض سے گزشتہ دنوں وفاق المدارس و المکاتب کے عنوان سے ایک متحدہ پلیٹ فارم قائم کیا گیا ،جس کے تحت گزشتہ میٹنگ میں تمام مدارس کے نظماء اور ذمہ داران کو مدعو کیا گیا تھا ،چونکہ شہر میں بڑی تعداد میں مکاتب قائم ہیں ،اس لیے آج مکاتب کے نظماء اور ذمہ داران کی علاحدہ مشاورتی نشست رکھی گئی ہے ،انہوں نے تجویز پیش کی کہ مکاتب کے نظماء ذمہ داران پر مشتمل وفاق المدارس والمکاتب کے تحت شعبہ مکاتب قائم کیا جائے،جس کے ذریعے مکاتب کو درپیش مشکلات کا مقابلہ کیا جائے اور تعلیم وتربیت اور نظم وانتظام کو مزید مستحکم کیا جائے۔موصوف کی اس تجویز کی تمام شرکاء نے ہاتھ اٹھا کر تائید کی ۔انہوں نے وضاحت کی کہ وفاق کا مقصد مدارس ومکاتب کے نظام تعلیم وتربیت اور انتظامی معاملات میں مداخلت نہیں بلکہ اس میں بہتری لانا ہے۔


اس کے بعدشعبہ مکاتب کے سلسلے میں شرکاء سے تجاویز اور مشورے طلب کیے گئے ،چنانچہ مولانا عمران اسجد ندوی ،مولانا سفیان جمالی ،قاری طفیل محمدی،حافظ جمیل اشاعتی ،حافظ ساجد اشاعتی ،مولانا عبد الرحمن جمالی ،مولانا مجاہد الاسلام ملی ،حافظ عبد الخالق ،مولانا عبد الماجد ندوی اور حافظ عبد الصمد اشاعتی وغیرہ نے مندرجہ ذیل اہم تجاویز پیش کیں۔

(الف) شعبہ مکاتب کے تحت تمام مکاتب کے نظام تعلیم وتربیت کو مستحکم کیا جائے ۔

(ب)ایک کمیٹی قائم کر کے موجودہ حالات کے مطابق ایک جامع نصاب مرتب کیا جائے ،جس کا نفاذ اختیاری ہو۔

(ج)معلمین کا تدریبی پروگرام رکھا جائے ۔

(د)مکاتب سے فارغ ہونے والے حفاظ کا تربیتی پروگرام منعقد کیا جائے ۔

(ہ)مکاتب کو پیش آمدہ انتظامی اور قانونی مسائل کوشعبہ مکاتب کے ذریعے حل کیا جائے ۔

یہ بات بھی طے پائی کی تمام تجاویز کی روشنی میںغور وخوض کر کے شعبہ مکاتب کا ایک لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔اس مشاورتی نشست میں شعبہ مکاتب کے صدر اور نائب صدور سمیت دیگر مناصب کے لیے مندرجہ ذیل افراد کا انتخاب بھی شرکاء کے اتفاق رائے سے عمل میں آیاتمام عہدیداران کا انتخاب اور ان کے ناموں کا اعلان صدر محترم مولانا محمد ادریس عقیل ملی قاسمی صاحب نے فرمایا۔

مولانا نعیم الظفر نعمانی (صدر) مولانا عمران اسجد ندوی (نائب صدر) مولانا امین الجبار ملی (نائب صدر)قاری حفیظ الرحمن شمسی(نائب صدر) حافظ ساجد اشاعتی(نائب صدر) مولانا عبد الرحمن جمالی(نائب صدر) مولانا آصف شعبان(جنرل سکریٹری) قاری ریحان فردوسی(سکریٹری)قاری اشفاق احمد ملی ( سکریٹری)حافظ جمیل اشاعتی( سکریٹری) مولانا سفیان جمالی( سکریٹری) مفتی محمد عامریاسین ملی( سکریٹری)مولانا عقیل احمد ملی قاسمی (ترجمان)

اخیر میں حضرت مولانا محمد ادریس عقیل ملی قاسمی صاحب نے صدارتی کلمات ارشاد فرمائے ،انہوں نے شعبہ مکاتب کے قیام کو خوش آئند اور حوصلہ افزا اقدام قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اس کے ذریعے مکاتب کو استحکام حاصل ہوگا ۔مولانا محترم نے شرکاء کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ خلوص وللہیت کے ساتھ خدمات انجام دیں اور اجتماعی کاموں میں اپنی رائے قبول نہ ہونے پر بد دل نہ ہوں،بلکہ یہ خیال کریں کہ جس رائے پر عمل ہوا ہے اسی میں اللہ نے خیر رکھی ہوگی !صدر محترم ہی کی دعا پر اس مشاورتی نشست کا اختتام ہوا ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.