اورنگ آباد / شہر میں ایک سنسنی خیز قتل کی واردات کا انکشاف ہوا ہے۔ جس میں گزشتہ 19 دنوں سے لاپتہ سچن اوتاڑے (عمر 32سال ساکن ہرمول) کی لاش گوداوری ندی کے کنارے سے ملی ہے ۔ چونکا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ چھاوا تنظیم کی ریاستی صدر بھارتی دوبے نے سچن کو اپنے ماموں زاد بھائی اور دوست کی مدد سے اس بنیاد پر قتل کر دیا کہ وہ محبت میں رکاوٹ بنا رہا تھا ۔ اس معاملے نے پورے شہر میں ہلچل مچا دی ہے ۔
محبت کی وجہ سے جھگڑا اور قتل!
بھارتی دوبے اپنے شوہر سے علیحدگی کے بعد کناٹ پلیس کے علاقے میں رہ رہی تھیں۔ سچن سے ان کی ملاقات چھاوا تنظیم میں کام کرتے ہوئے ہوئی۔ چار سال میں یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔
31 جولائی کو دونوں شراب پی کر بھارتی کے فلیٹ پر گئے ۔ بھارتی کا ماموں زاد بھائی درگیش تیواری اور اس کا دوست افروز اسی جگہ پہنچے ۔ ان چاروں میں جھگڑا ہو گیا اور ان تینوں نے سچن کو بے دردی سے پیٹا اور چاقو سے وار کر کے اسے ہلاک کر دیا۔
ندی کے کنارے ملی لاش، ٹیٹو کے ذریعے شناخت کی گئی :
سچن 31 جولائی سے لاپتہ تھا۔ رشتہ داروں نے حسول پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ 13 اگست کو شیوگاؤں تعلقہ کے مونگی میں گوداوری ندی کے کنارے سے ایک لاش ملی تھی۔ اس کی گردن اور ہاتھوں پر بنے ٹیٹو سے لاش کی شناخت سچن کے طور پر ہوئی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج نے سازش کا بھانڈا پھوڑا :
سچن کے غائب ہونے کے بعد بھارتی بھی فلیٹ سے لاپتہ ہوگئیں۔ پولیس نے 80 سی سی ٹی وی فوٹیجز چیک کیئے ۔ واضح طور پر دیکھا گیا کہ بھارتی، درگیش اور افروز لاش کو ترپال میں لے جا رہے تھے۔ دریں اثناء بھارتی کو بلڈھانہ ضلع کے سخرکھیڑا میں چھپا ہوا پایا گیا۔ پولیس نے اسے ایک کھیت سے گرفتار کر لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران اس نے محبت کے تنازع پر قتل کا اعتراف کیا۔
تینوں ملزمان پولیس کی حراست میں :
پولیس نے اس معاملے میں بھارتی دوبے، درگیش تیواری اور افروز کو گرفتار کیا ہے اور عدالت نے انہیں پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔
محبت کی وجہ سے ہونے والا یہ سنسنی خیز قتل چھترپتی سمبھاج نگر میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے ۔
