مشہور خبریں

مالیگاؤں میں بؤدھ گیا تحریک کے رہنماؤں کا شاندار استقبال ، سماجوادی یوتھ لیڈر مستقیم ڈگنٹی نے پیش کیا حمایت نامہ

مالیگاؤں / 27 اگست آج دوپہر 2 بجے بؤدھ گیا تحریک (Mahabodhi Liberation Movement) کے قائدین جب مالیگاؤں شہر سے گزرے تو شہر کا منظر اتحاد، یکجہتی اور بھائی چارے کی خوبصورت مثال بن گیا۔ سماجوادی پارٹی کی جانب سے مقامی یوتھ لیڈر مستقیم ڈگنٹی نے نہ صرف رہنماؤں کا پرجوش استقبال کیا بلکہ ان کی جدوجہد کے ساتھ ہمدردی و یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایک باضابطہ حمایتی مکتوب بھی پیش کیا۔

یہ مورچہ بودھ گیا (بہار) سے شروع ہوا ہے اور اپنی منزل ممبئی کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں قومی سطح پر ایک بڑی میٹنگ اور مظاہرہ منعقد کیا جائے گا۔ راستے میں یہ قافلہ مختلف شہروں میں عوام اور سیاسی و سماجی تنظیموں کی حمایت حاصل کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مستقیم ڈگنٹی نے کہا کہ:
"بؤدھ گیا تحریک صرف بدھ مت برادری کی نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور مذہبی آزادی کی آواز ہے، جس کے ساتھ سماجوادی پارٹی بھی پوری مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے۔ آج مرکز کی حکومت کی فرقہ پرستی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ملک میں کوئی بھی مذہب کے ماننے والے اپنے دین و عقیدہ کے ساتھ آزادی سے نہیں جی پا رہے ہیں، حالانکہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے، جہاں ہر مذہب کے لوگوں کو اپنے حقوق کے ساتھ آزادی سے جینے کا حق اور اجازت حاصل ہے۔"

واضح رہے کہ بؤدھ گیا تحریک کا مقصد 1949ء کے BT Act کی منسوخی اور مہابودھی مندر کا مکمل انتظام بدھ برادری کو سونپنا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس تحریک کے تحت بھوک ہڑتالیں، احتجاجی مظاہرے اور حمایت کی گونج ملک بھر میں سنائی دے رہی ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

اس استقبالیہ موقع پر سماجوادی پارٹی کے دیگر ذمہ داران بھی مستقیم ڈگنٹی کے ہمراہ موجود تھے، جن میں ایڈوکیٹ توصیف شیخ، مزمل بفاتی، مسیح اللہ بیسٹ، عبدالرحمن انصاری، رمضان عباس، سلیم گڑبڑ، ابوالیث انصاری، خان عطا الرحمن وغیرہ شامل تھے۔

مالیگاؤں میں اس تحریک کے قافلے کا پرجوش استقبال اس بات کی دلیل ہے کہ یہ جدوجہد صرف ایک برادری تک محدود نہیں، بلکہ پورے ملک میں انصاف، مساوات اور یکجہتی کی علامت بنتی جا رہی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.