مشہور خبریں

یوا نیتا مستقیم ڈگنیٹی کے ہاتھوں رسم پرچم کشائی ، ہزاروں نوجوانوں کی شمولیت , وزیراعظم مودی پر آر ایس ایس کی تعریف پر شدید تنقید , “تاریخ گواہ ہے آزادی میں آر ایس ایس کا کوئی کردار نہیں” یہ ملک ترنگا تھا، ترنگا ہے اور ترنگا رہے گا – فرقہ پرست طاقتوں کو سخت وارننگ ,شہر مذہبی ہو مگر فرقہ پرست نہ ہو , ہم نے فرقہ پرستوں کے خلاف لڑا ہے، لڑ رہے ہیں اور لڑتے رہیں گے : مستقیم ڈگنیٹی


مالیگاؤں، 15 اگست / آزاد ہندوستان کے 78 سال مکمل ہونے کے موقع پر آج مالیگاؤں شہر میں یومِ آزادی کا سب سے بڑا عوامی جھنڈا بندھن قدوائی روڈ پر واقع شہیدوں کی یادگار سے متصل اشوک استمبھ (یادگار شہداء جنگِ آزادی) پر شاندار طریقے سے منعقد ہوا۔ صبح 10:15 بجے ہزاروں نوجوانوں کے جوش و خروش اور حب الوطنی کے نعروں کے درمیان یوا نیتا مستقیم ڈگنیٹی کے ہاتھوں رسم پرچم کشائی انجام پائی۔

اس موقع پر اپنے جذباتی خطاب میں مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ “ہر سال یہاں جھنڈا بندھن کرنے کا مقصد صرف ایک ہے — مالیگاؤں کے سات عظیم شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھنا اور نئی نسل تک پہنچانا۔ ایک وقت تھا جب 15 اگست اور 26 جنوری کو یہاں عام شہری کھڑے بھی نہیں رہ سکتے تھے، سیکورٹی کا ماحول ایسا تھا کہ لوگ یہاں آنے سے کتراتے تھے۔ میں نے عزم کیا کہ یہ جگہ آزادی کے پروانوں کا میلہ گاہ بنے گی۔ 2021 میں میری کوششوں سے اشوک استمبھ کی تعمیر کارپوریشن کے ذریعے مکمل ہوئی اور پہلی بار 2021 اس جگہ پر ترنگا لہرایا گیا، شہداء کو یاد کیا گیا، اور تب سے ہر سال یہ روایت جاری ہے۔”

انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی پر بھی سخت تنقید کی۔ “آج لال قلعہ سے وزیراعظم نے آر ایس ایس کی تعریف اور 100 سالہ جشن کی بات کی۔ یہ افسوسناک ہے کیونکہ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ آزادی کی لڑائی میں آر ایس ایس کا کوئی حصہ نہیں تھا۔ آر ایس ایس گاندھی کے نظریے کی مخالف اور انگریزوں کی جی حضوری کرنے والی تنظیم تھی۔ ایسے موقع پر آر ایس ایس کی تعریف تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔”
مستقیم ڈگنیٹی نے فرقہ پرستی کے بڑھتے خطرات پر بھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ “مالیگاؤں شہر کے وہ 7 شہید جنہوں نے 1921 میں ملک کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کی، آج کی فرقہ پرست طاقتیں انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ شہر مذہبی ہو سکتا ہے، مگر فرقہ پرست نہیں ہونا چاہئے۔ ہم نے فرقہ پرستوں کے خلاف لڑا ہے، لڑ رہے ہیں اور لڑتے رہیں گے۔ یہ ملک کبھی بھگوا نہیں تھا، یہ ملک ترنگا تھا، ترنگا ہے اور ترنگا ہی رہے گا۔”

ترنگے کی گونج، شہداء کی یاد اور فرقہ پرستی کے خلاف واضح پیغام کے ساتھ یہ تقریب اس بات کا اعلان تھی کہ مالیگاؤں کے عوام اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے اور ہر سال اسی جوش و جذبے سے آزادی کا جشن منائیں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.