کولہاپور/ شیو راجیہ ابھیشیک کے یوم تاجپوشی پر کچھ نوجوانوں نے اپنے موبائل فون پر اورنگ زیب کا اسٹیٹس رکھا۔ جس سے کولہاپور میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ اس میں کچھ ہندوتوا تنظیموں نے کولہاپور بند کا اعلان کیا تھا ۔ 7 جون کو کولہاپور کے شیواجی چوک علاقے میں ایک بڑا ہجوم جمع ہوا۔ اس دوران بھیڑ کے ساتھ پولیس کی جھڑپ ہوئی۔ پولیس نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ پھر اس ہجوم نے کولہاپور میں توڑ پھوڑ شروع کردی ۔
اس معاملے میں اب تک 36 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں تین نابالغ بچے بھی شامل ہیں۔ تینوں کو نابالغ عدالت میں پیش کر کے مزید کارروائی کی جائے گی۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ مہندر پنڈت نے بتایا کہ اس جرم میں تقریباً 300 سے 400 مشتبہ افراد ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ نوجوانوں نے موبائل اسٹیٹس رکھا ہوا ہے۔ یہ بنیادی معلومات ہے کہ ان سب نے موبائل اسٹیٹس کو کاپی کرکے اپنے موبائل میں رکھا ہوا ہے۔ یہ تمام موبائل ضبط کر لیے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے جس موبائل ایپ پر یہ اسٹیٹس رکھا تھا اسے موبائل سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ فی الحال ڈیٹا کی وصولی کا کام جاری ہے۔
آج ایک بار پھر علاقے کے سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کیئے جائینگے ۔ اس کی بنیاد پر کچھ نئے مشتبہ افراد سامنے آئیں گے۔ ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ کولہاپور شہر اور ضلع میں انٹرنیٹ سروس آج رات 12 بجے تک بند رہے گی۔ تب تک تناؤ بالکل ختم ہو جائے گا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے یہ بھی بتایا کہ کئی علاقوں میں دکانیں حسب معمول شروع ہو گئی ہیں ۔

.jpeg)
