مالیگاؤں / ناسک گرامین پولیس کی جانب سے عوام کو مطلع متلا کیا جاتا ہے کہ جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ کے قانون 2012 کے سیکشن 23 کے مطابق، جرم کا شکار بچے کی کوئی تصویر ، ویڈیو ، نام ، پتہ ، اسکول یا کوئی بھی ذاتی معلومات شائع کرنا یا شیئر کرنا قابل سزا جرم ہے ، چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک نیوز، سوشل میڈیا یا کسی اور صورت میں متاثرہ بچے کی شناخت ظاہر نہیں کی جاسکتی ہے ۔
کوئی بھی نیوز چینل، اخبار، واٹس ایپ، انسٹاگرام، فیس بک، ایکس ٹویٹر، یوٹیوب وغیرہ، اس انداز میں معلومات پھیلاتا ہے جس سے متاثرہ بچے کا چہرہ یا شناخت ظاہر ہو، ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مذکورہ ایکٹ کے مطابق کوئی بھی شخص جو جان بوجھ کر یا لاپرواہی سے متاثرہ بچے کی شناخت ظاہر کرنے والی معلومات کو پھیلاتا ہے اسے قید کی سزا دی جا سکتی ہے جو ماہ سے 1 سال تک بڑھ سکتی ہے اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
عدالت کی واضح اجازت کے بغیر اس طرح کے مواد کی اشاعت/تقسیم کرنا غیر قانونی ہے ۔
اکاؤنٹ ہولڈرز، پیج ایڈمنز، گروپ ایڈمنز جو ایسی پوسٹس/فوٹو/ویڈیوز شیئر یا فارورڈ کرتے ہیں انہیں بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے ۔
یہ تمام صحافیوں، ڈیجیٹل مواد کے پبلشرز، سوشل میڈیا صارفین اور گروپ ایڈمنز کو مطلع کرنے کے لیے ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق خبروں یا معلومات کو پھیلاتے وقت بچوں کی پرائیویسی اور شناخت کا تحفظ کرنا لازمی ہے ۔
بچوں کی حفاظت، وقار اور رازداری کو برقرار رکھنا ہمارا اجتماعی فرض ہے ، اسطرح کی پریس ریلیز ناسک گرامین پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ہے ، عوام اسطرح کی غیر ذمہ داران حرکت سے گریز کریں ورنہ قانونی کاروائی کی زد میں آسکتے ہیں اسکا خیال رکھیں ۔
