مالیگاؤں / 26 جنوری یومِ جمہوریہ کے موقع پر آج صبح ٹھیک 10 بج کر 5 منٹ پر سماجوادی پارٹی کے یوا لیڈر مستقیم ڈگنیٹی صاحب کے ہاتھوں قدوائی روڈ، اشوک استمبھ پر پورے جوش و جذبے کے ساتھ رسمِ پرچم کشائی انجام پائی۔ ترنگے کو سلامی دیتے ہوئے ملک کی سالمیت، جمہوریت اور سیکولر اقدار کا عہد دہرایا گیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ آج کا ہندوستان ایک آزاد اور جمہوری ملک ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ملک میں فرقہ پرست سوچ تیزی سے حاوی کی جا رہی ہے، جو جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ گزشتہ سال مالیگاؤں میں بنگلہ دیشی کے نام پر SIT بٹھائی گئی، ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، مگر نہ تو ایک بھی بنگلہ دیشی ثابت ہوا اور نہ ہی SIT نے آج تک اپنی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب دراصل ایک مخصوص طبقے کو ذہنی طور پر پریشان کرنے اور مذہب کی سیاست کے ذریعے اپنی سیاسی دکان چمکانے کی سازش ہے۔
مستقیم ڈگنیٹی نے واضح الفاظ میں دو ٹوک انداز میں کہا کہ جو مسلم لیڈر مہاراشٹر، ملک یا شہر کو ہرے رنگ میں رنگنے کی بات کرتے ہیں، وہ ملک کے تئیں ایماندار نہیں ہیں۔ “جو لوگ شہر، ریاست یا ملک کو بھگوا رنگ میں بانٹنے کی بات کرتے ہیں وہ خطرناک ہیں، مگر ان سے بھی زیادہ خطرناک وہ لوگ ہیں جو ہرے رنگ میں ملک کو بانٹنے کی بات کرتے ہیں۔ ایسے عناصر سے مسلمانوں کو سب سے زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ملک کو رنگوں میں بانٹنے کی ہر کوشش دراصل ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش ہے، اور اگر ملک تقسیم ہوا تو ظاہر سی بات ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کی اکثریت قائم ہو جائے گی، جو نہ ملک کے مفاد میں ہے، نہ مہاراشٹر کے اور نہ ہی مالیگاؤں کے۔
مستقیم ڈگنیٹی نے فخر کے ساتھ کہا کہ مالیگاؤں نہال صاحب کا شہر رہا ہے، جہاں ہمیشہ سیکولر سوچ، بھائی چارہ اور ترنگی فکر کو فروغ ملا ہے۔ “ہمیں ہمیشہ ترنگا ملک چاہئے، ترنگا شہر چاہئے اور ترنگے کے تینوں رنگ چاہئے۔ نہ ہم نے کبھی اس شہر کو ایک رنگ میں بانٹا ہے اور نہ آئندہ کبھی بانٹنے دیں گے۔”
یومِ جمہوریہ کے اس مقدس موقع پر انہوں نے عوام اور پارٹی ورکرس سے اپیل کرتے ہوئے کہا:
“آج ہمیں یہاں سے یہ عہد لے کر جانا چاہئے کہ یہ ملک ترنگی سوچ کا ہے اور ہمیشہ ترنگی سوچ کا ہی رہے گا۔ ہمیں کبھی بھی مذہب کے نام پر گمراہ نہیں ہونا چاہئے۔ جب تک ہم ترنگے کے ساتھ کھڑے رہیں گے، جمہوری ملک میں ہمیں ہمارے تمام آئینی حقوق ملتے رہیں گے، اور جس دن ہم ایک رنگ میں ڈھلنے لگے، اُسی دن سے ہمارے حقوق چھینے جانے شروع ہو جائیں گے۔”
آخر میں مستقیم ڈگنیٹی نے پرجوش انداز میں کہا:
“ترنگا ہی ہماری پہچان ہے، ترنگا ہی ہماری طاقت ہے، اور ترنگا ہی ہندوستان کی جمہوریت کی ضمانت ہے۔”
اس موقع پر سماجوادی پارٹی کے ورکرس اور ذمہ داران بڑی تعداد میں موجود رہے، جن میں اطہر حسین اشرفی، سہیل عبدالکریم، مومن معین اختر، عبدالرحمٰن انصاری، عارف عطّار، سفیان باقی، فیضان رجو، ابوالیث انصاری سمیت دیگر شامل تھے۔
