اورنگ آباد : سماج کی حفاظت کے ذمہ داروں کے ذریعہ قانون اور انسانیت کی خلاف ورزی کا ایک افسوسناک معاملہ چھترپتی سنبھاج نگر (اورنگ آباد) شہر میں سامنے آیا ہے۔ ایک سنگین الزام ہے کہ ایک 58 سالہ پولیس سب انسپکٹر (PSI) نے مدد کے بہانے ایک 23 سالہ لڑکی کا اعتماد حاصل کیا اور اس کے ساتھ بار بار جنسی زیادتی کی۔ اس معاملے میں متعلقہ پولیس افسر، ان کی بیوی اور بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔
اصل میں ناندیڑ کی رہنے والی اور فی الحال پونے کی ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کر رہی ہے، لڑکی 7 مارچ 2025 کو کرانتی چوک پولیس اسٹیشن گئی تھی تاکہ اپنے گمشدہ موبائل فون کے بارے میں شکایت درج کرائیں۔ یہیں اس کی ملاقات پولیس سب انسپکٹر سبھاش چوہان سے ہوئی۔ مدد کی آڑ میں اس نے لڑکی کا موبائل نمبر لیا اور 'نمبر کی تصدیق' کے بہانے اس سے رابطہ کرنا شروع کر دیا۔ بعد میں بات چیت بڑھ گئی اور افسر نے محبت کا بہانہ کرکے اس کا اعتماد حاصل کرلیا۔
ملزم نے شادی کے جھوٹے بہانے لڑکی کو جعلی منگل سوتر باندھا اور اسے اپنی بیوی جیسا محسوس کرایا۔ الزام ہے کہ اس دھوکے کے زور پر اسے شہر کے مختلف لاجز میں لے جایا گیا اور بار بار اس کے ساتھ زیادتی کی۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس دوران لڑکی کے حاملہ ہونے کے بعد اسے پونے اور چھترپتی سمبھاج نگر میں اس کی مرضی کے خلاف تین بار اسقاط حمل کروانے پر مجبور کیا گیا۔ یہ واقعہ مارچ 2025 سے فروری 2026 کے درمیان پیش آیا۔
جب لڑکی نے اپنے ساتھ دھوکہ دہی کا احساس ہونے کے بعد شادی پر اصرار کیا تو ملزم نے اس کے ساتھ بدسلوکی کی اور اس کی پٹائی کی۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد الزام ہے کہ ملزم کی بیوی نرمدا چوہان اور بیٹے ساگر چوہان نے بھی متاثرہ کو دھمکیاں دیں۔ 28 جنوری کو بیوی نے 'میرا پیچھا بند کرنے، اسقاط حمل کروانے' کی دھمکی دی اور مارا پیٹا، جب کہ بیٹے نے بھی ہاتھ اٹھایا، جس کے باعث ڈیڑھ ماہ بعد لڑکی کا اسقاط حمل ہو گیا ۔
مسلسل جسمانی اور ذہنی اذیت سے تنگ آکر متاثرہ نے بالآخر پولیس سے رجوع کرلیا۔ کرانتی چوک پولس اسٹیشن اور بیگم پورہ پولس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے، اور مکمل تحقیقات کی جارہی ہے۔ اس واقعے سے شہر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے اور پولیس کے نظام کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں ۔
