ناسک / ناسک ضلع میں بڑھتے رشوت خوری کے درمیان اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) کی بڑی کارروائی سے ناسک ضلع میں کھلبلی ۔ ایک ٹھیکیدار کے کام کا بل منظور کرنے کے لیے بل کی 4 فیصد رشوت مانگنے کے معاملے میں مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر رویندر جادھو سمیت ان کے پرسنل اسسٹنٹ اور میونسپل کارپوریشن کے اکاؤنٹنٹ، ان تینوں کو اے سی بی نے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ اس کارروائی سے سرکاری حلقوں میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے اور بدعنوان افسران میں خوف پھیل گیا ہے۔
*جال بچھا کر گرفتاری کی گئی*
موصولہ اطلاعات کے مطابق، شکایت کنندہ ٹھیکیدار کے منظور شدہ بل کی رقم جاری کرنے کے لیے مالیگاؤں میونسپل کمشنر رویندر جادھو نے بل کی کل رقم پر 4 فیصد رشوت کا مطالبہ کیا تھا۔ اس معاملے میں ٹھیکیدار نے فوری طور پر ناسک اینٹی کرپشن بیورو میں شکایت درج کرائی۔ شکایت کی تصدیق کے بعد ناسک اے سی بی کی ٹیم نے اگتپوری تعلقہ کے گھوٹی میں انتہائی خفیہ طور پر جال بچھایا۔ رشوت کی رقم قبول کرتے وقت اے سی بی کی ٹیم نے چھاپہ مار کر مالیگاؤں میونسپل کمشنر رویندر جادھو، ان کے پرسنل اسسٹنٹ نیلیش پاٹل اور اکاؤنٹنٹ ہریش ڈنگبر ان تینوں کو موقع پر ہی حراست میں لے کر گرفتار کر لیا۔
دریں اثنا شکایت کے مطابق متعلقہ ٹھیکیداروں کے ذریعہ میونسپل کارپوریشن کے توسط سے کیے گئے کاموں کے بل بینک اکاؤنٹ میں RTGS کے ذریعے جمع کرنے کے عوض رشوت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس بارے میں اینٹی کرپشن بیورو نے تصدیق کی تو تینوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے بعد تینوں کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ 1988 کی دفعہ 7 اور 12 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی اینٹی کرپشن بیورو کی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سواتی پوار کی رہنمائی میں کی گئی ہے اور مزید تفتیش ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سچن سالونکھے کر رہے ہیں۔
*انتظامی حلقوں میں بڑی ہلچل*
پچھلے کچھ دنوں سے ناسک ضلع میں مختلف سرکاری محکموں کے بڑے افسران اے سی بی کے جال میں پھنس رہے ہیں۔ لیکن براہ راست میونسپل کمشنر جیسا سینئر سرکاری افسر ہی رشوت خوری کے معاملے میں پکڑے جانے سے ناسک سمیت پوری ریاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اے سی بی کی اس سخت کارروائی سے رشوت خور افسران پر لگام لگے گی ۔
