مالیگاؤں / مال و دولت سے سکون نہیں ملتا ، بلکہ سکون اللہ سے نسبت اختیار کرنے سے ملتا ہے ۔ اس دنیا میں انسان ایش و عشرت کے لئے نہیں آیا ہے ، بلکے اس لئے بھیجا گیا ہیکہ وہ ایمان و اعمال کے ذریعے ہمیشہ ہمیش کی زندگی پالے ، مگر آج انسان یہ سمجھ رہا ہیکہ وہ یہاں پیٹ بھرنے کے لئے آیا ہے ، اپنا نام اونچا کرنے کے لئے آیا ہے ، مجھے اور آپ کو اللّه پاک نے ایمان کی نعمت سے نوازہ ہے ، یورپ میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے اور یوروپی عوام اسلامی کلچر اپنارہی ہے ، لیکن ہم ہندوستانی مسلمان پیچھے کی جانب جاتے ہوئے یورپ کے سیکنڈ ہینڈ کلچر کو استعمال کررہے ہیں جس کے سبب ہمارے گھروں میں اسلامی ماحول باقی نہیں ہے ۔ ہماری خواتین سیریل میں مبتلاہیں ۔ نوجوان موبائیل گیم اور فلموں میں مصروف ہیں ۔ اولاد ہمارا قیمتی سرمایہ ہے ۔ ہم اُس پر توجہ دیں اور حفاظت کریں اور اس کی سب سے بڑی ذمہ داری ایک ماں کو ادا کرنی ہے ۔ عورت جب ایمان سے تعلق رکھتی ہے تو اللہ کے یہاں اُس کا مقام بلند ہوتا ہے ۔ ہماری عورتوں کو کسی ہیرو ، ہیروئین کی نقل نہ کرتے ہوئے ازواجِ مطہرات اور صحابہ کرام کی ازواج کی زندگی اور سیرت کو پڑھ کر اپنے آپ کو نیک اور پاکباز عورت بنانا ہے ۔ اس طرح کے جملوں کا اظہار جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا کے ناظم تعلیمات مولانا حذیفہ وستانوی نے کیا ۔ موصوف مدرسہ ریاض الجنہ کے سالانہ جلسہ عام میں تشریف لائے تھے ۔ مالیگائوں اسکول میں منعقدہ پروگرام سے اُنہوں نے والدین اور خصوصاً خواتین کو ارتداد سے محفوظ رہنے کے لئے قرآنی تعلیمات سے بالخصوص حفظ قرآن کی سعادت سے سرفراز ہونے کی تلقین کی ،
اس موقع پر مشہور موٹیو یشنل اسپیکر منور الزماں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ 50%مسلم بچے دسویں ، بارہویں جماعت میں فیل ہورہے ہیں ۔ لڑکیاں آگے بڑھ رہی ہیں ، ڈاکٹر ، ٹیچر ، انجینئر ، وکیل بن کر اچھے رشتوں کے انتظار میں وہ ارتداد کے دہانے پر پہنچ رہی ہیں ۔ علمائے کرام ، تنظیموں اور اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ مسلم نوجوانوں کو سوچنا چاہئے کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو کس طرح پڑھا لکھا کر آگے بڑھانا ہے ؟ تاکہ رشتوں کا جوڑ باقی رہ سکے ۔ منور الزماں نے کہا کہ مولانا وستانوی ملت کا درد لے کر آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم نے مدارس کے ساتھ ساتھ اسکول اور کالج شروع کرنے اور ہزار ٹرینر تیار کرنے کا عزم کیا ہے ۔ اس موقع پر حافظ جمیل احمد اشاعتی نے مدرسہ ریاض الجنہ کے طلباء کا مختصر پروگرام پیش کیا اور مہمان مقررین سمیت معلمین و معلمات اور سرکردہ افراد کا شکریہ ادا کیا ۔ مدرسہ ریاض الجنه کے اس کامیاب تقریب میں سیاسی ، سماجی و تعلیمی حلقوں کے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی ۔


