جالنہ : جمعیة علماء مہاراشٹر کے صدر حضرت مولانا محمد مستقیم احسن اعظمی (رحمہ اللہ رحمة واسعة) کی زندگی کا آفتاب آج یکم ذی الحجہ م ١٩ صبح پانچ بجے غروب ہوگیا، یہ دن ملی، قومی و دینی حوالے سے ایک عظیم سانحہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ حادثہ ایک فرد کا نہیں، ایک امت کا ہے، رونا ایک خاندان کا نہیں، پوری ملت کا ہے، لیکن موت ایسی اٹل حقیقت ہے، جس سے کسی کو مفر نہیں، ہر موجود کو فناکے گھاٹ اترنا ہے، کل نفس ذائقة الموت سے ہر ایک کا سابقہ اتنا ہی یقینی ہے، جتنا ہر موجود کو ہر آنے والی سانس پر زندگی کااحساس۔
"موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے"
ان تاثرات کا اظہار مولانا سید نصراللہ حسینی سہیل ندوی صدر جمعیت علماء ضلع جالنہ نے آج منعقدہ تعزیتی نشست میں باغبان مسجد قدیم جالنہ میں کیا،
آپنے کہا کہ مولانا محترم نور اللہ مرقدہ- کی شخصیت اس دور میں جہد مسلسل اور حق کی حمایت کے لئے شبانہ روز محنت اورجدوجہد کا عنوان تھی۔ آپ کی ٨٥/سالہ زندگی کے بیشتر لمحے قوم و ملت کے لئے وقف رہے، آپ کی مخلصانہ اور دور اندیشانہ رہنمائی سے مہاراشٹر کی ملت اسلامیہ برابر مستفیض ہوتی رہی۔
"ویران ہے میکدہ ، خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے"
آپ کاتمام سیاسی پارٹیوں کے ذمہ دار لحاظ کرتے تھے، اور ان کی شخصیت کا وزن محسوس کرتے تھے، حضرت مولانا علیہ الرحمہ کے ہم سے جدا ہوجانے سے ایک بڑا خلاء پیدا ہوگیا ہے، جس کا ہم سب کو شدت سے احساس ہے، مولانا کی زندگی ہمارے لئے سراپا جدوجہد اور قوم وملت کے لئے بے مثال قربانی پیش کرنے کی ترغیب اور تحریک و عمل کا پیغام ہے۔ مولانا نے دین و سیاست،اصلاح و تربیت اور ملی جدوجہد کے پُنبہ و آتش کو جس طرح نباہ کر دکھایا، وہ غیر معمولی اور ناقابل فراموش ہے،
مولانا نے کہا کہ مولانا محترم فاضل دارالعلوم دیوبند، بہترین انشاء پرداز اور شاعر، منجھے ہوئے اور بے لاگ مقرر، قوم و ملت کے دیرینہ خادم، مدارس و جامعات کے سرپرست تھے
کافی عرصے علیل رہے، جیسے ہی طبیعت میں کچھ افاقہ ہوتا ملت اسلامیہ کی فکروں میں لگ جاتے اور علیل رہتے ہوئے بھی اپنی طاقت کے مطابق کوششیں کرتے رہتے، اپنے پیچھے اپنے سعادت مند اہل و عیال خصوصاً مولانا محمد عارف عمری صاحب حفظہ اللہ کو دینی مشاغل میں چھوڑ گئے، جو آپ کے لیے صدقہ جاریہ ثابت ہوتے رہیں گے، نیز ملت اسلامیہ کے لیے آپ کی مخلصانہ خدمات بھی آپ کے لئے صدقہ جاریہ بنے گی-
مولانا ملک و ملت کی گراں بار ذمہ داریوں کو اپنے کاندھوں پر اٹھاتے اُٹھاتے تھک چکے تھے، اس لئے ان کے پروردگار نے انھیں ابدی آرام کے لئے اپنے پاس بلالیا۔ خدا اس مردِ جلیل کی مغفرت فرمائے۔ آمین
"آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی
کرے"
اس سے پہلے مولانا عیسیٰ خان کاشفی صدر جمعیت علماء شہر جالنہ نے مولانا مستقیم احسن اعظمی کی جمعیت علماء ہند کے پلیٹ فارم سے زبردست خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کامل مغفرت فرماکر درجات بلند فرمائے اور آپ کی دینی وعلمی و ملی خدمات کو شرف قبولیت عطا فرماکر انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ مرحمت فرمائے، آمین، تعزیتی نشست کا آغاز حافظ عبد السلام قریشی امام باغبان مسجد کی تلاوت قرآن سے ہوا،
تعزیتی نشست میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی قابل ذکر افراد میں محمد ایوب خان جنرل سیکرٹری جمعیت علماء ضلع جالنہ، محمد افتخار الدین نائب صدر جمعیت علماء، حافظ عبد السلام قریشی، الحاج نواب ڈانگے صاحب، ڈاکٹر جمعہ خان، الحاج محمد احتشام الدین باغبان،ادریس بھائی وہاج الدین، وغیرہ شامل تھے ۔


