مالیگاؤں: 27 ستمبر / شہر مالیگاؤں کی تاریخی لشکر والی عیدگاہ میں گزشتہ دنوں بارش نہ ہونے اور قحط سالی کے احوال کے پیشِ نظر سنتِ نبویؐ پر عمل کرتے ہوئے بارانِ رحمت کے لیے نمازِ استسقاء اور خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا۔ اس اجتماع میں شہر و اطراف سے بڑی تعداد میں شہریوں، بزرگوں، نوجوانوں اور معصوم بچوں نے شرکت کی اور بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ پھیلا کر گڑگڑا کر دعا مانگی۔اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مفتی محمد اسماعیل قاسمی نے بتایا کہ مانسون کے شروعاتی ایام میں تو کچھ بارشیں ہوئی تھیں جس سے کسانوں اور باغبانوں کو اچھی فصل اور بہتر پیداوار کی امید بندھی تھی۔ تاہم اگست کا پورا مہینہ اور ستمبر کا اختتام بھی شدید خشکی اور قحط جیسے حالات میں گزر رہا ہے،جس کی وجہ سے کھڑی فصلیں سوکھ رہی ہیں اور پیداوار سخت متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مہاراشٹر حکومت کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق ریاست کے تقریباً 70 تعلقوں کو قحط زدہ (Drought-affected) قرار دیا جا چکا ہے۔
مفتی اسماعیل قاسمی نے کہا کہ جب بھی امت پر قحط یا بلا کا وقت آتا ہے، ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشکی اور قحط کے مواقع پر میدان میں جا کر نماز پڑھنے اور عاجزی و انکساری کے ساتھ ربِ کریم سے دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا ہے۔اسی مسنون طریقے پر عمل کرتے ہوئے مالیگاؤں کی عوام سے اپیل کی گئی تھی، جس پر لبیک کہتے ہوئے شہریوں کی بڑی تعداد نے لشکر والی عیدگاہ پہنچ کر نماز ادا کی اور بارانِ رحمت کے لیے توبہ و استغفار کی۔دعائیہ مجلس کے دوران انتہائی رقت انگیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ مفتی اسمٰعیل سمیت امت مسلمہ نے اللہ کے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے ملک اور شہر کی خوشحالی، قحط سالی سے نجات، قرض اور بیماریوں سے حفاظت، اور بالخصوص پینے کے پانی اور کھیتی باڑی کی ضرورت کے مطابق بارانِ رحمت کے نزول کے لیے دلدوز دعائیں مانگی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اللہ رب العزت معصوم بچوں، سفید ریش بزرگوں کی عاجزی اور اس بڑے اجتماع کی دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے ضرور اپنی رحمت کی بارش نازل فرمائے گا۔
